|
مضامین پطرس کا مطالعہ |
(تمکین کاظمی)
پطرس ایک ذہین اور فریس ادیب اور فن کار تھے۔ ان کا مطالعہ نہایت ہی گہرا او
رمعلومات وسیع تھیں، اردو انگریزی دونوں زبانوں پر یکساں حاوی تھے۔ ساٹھ
سالہ عمر
تک انہیں ساٹھ ستر نہ سہی سات آٹھ کتابیں تو لکھنی چاہئے تھیں مگر وہ ”پیشہ ور انشا
پرداز“ نہ تھے جب جی چاہتا لکھتے اور جب تک جی نہ چاہتا تھا نہیں لکھتے تھے۔ چنانچہ
ان کی ابتدا سے یہی روش رہی۔ ابتداً ان کے مضامین طبع ہونے لگے تو مجھے بہت پسند
آئے۔ چنانچہ اسی سلسلے میں خط وکتابت بھی ہونے لگی۔ اور میں پطرس سے بےتکلف ہوتا
گیا۔ ان ہی کی خواہش اور تحریک پر میں نے بعض شخصی خاکے بھی لکھے تھے۔ بلائیں زلف جاناں کی اگر لیتے تو ہم لیتے
کہ اتنے میں پڑوسی کی آواز آئی ”مسٹر“۔
ہم اس وقت ذرا چٹکی بجانے لگے تھے بس انگلیاں وہیں پر رک گئیں اور کان آواز کی طرف
لگ گئے ارشاد ہوا، یہ آپ گا رہے ہیں (زور آپ پر) میں نے کہا، جی میں کس لائق ہوں
لیکن خیر فرمائیے!
بولے… وہ میں… ڈسٹرب ہوتا ہوں“
اس خرابی کے بعد پطرس دوسرے پڑوسی کو گھیرتے اور اس سے چھ بجے جگانے کی فرمائش کرتے
ہیں اور وہ غریب چھ بجے انہیں جگا بھی دیتا ہے اس کے بعد کی واردات خود پطرس سے
سنئے۔ ”اس کے بعد کے واقعات ذرا بحث طلب ہیں۔ اور ان کے متعلق روایات میں کس قدر
اختلاف ہے۔ بہرحال اس بات کا تو مجھے یقین ہے اور میں قسم بھی کھا سکتا ہوں کہ
آنکھیں، میں نے کھول دی تھیں، پھر یہ بھی یاد ہے کہ ایک نیک اور سچے مسلمان کی طرح
کلمہ شہادت بھی پڑھا۔ پھر یہ بھی یاد ہے کہ اُٹھنے سے پیشتر دیباچہ کے طور پر ایک
آدھ کروٹ بھی لی۔ پتہ نہیں شاید لحاف اوپر سے اتار دیا شاید سر اس میں لپیٹ دیا، یا
شاید کھانسا کہ خدا جانے خراٹا لیا۔ خیر یہ تو یقینی امر ہے کہ دس بجے ہم بالکل جاگ
رہے تھے لیکن لالہ جی کے جگانے کے بعد اور دس بجے سے پیشتر خدا جانے ہم پڑھ رہے تھے
یا شاید سو رہے تھے، نہیں ہمارا خیال ہے پڑھ رہے تھے یا شاید سو رہے ہوں بہرصورت یہ
نفسیات کا مسئلہ ہے جس میں نہ آپ ماہر ہیں نہ میں۔ کیا پتہ لالہ جی نے جگایا ہی دس
بجے ہو یا اس دن چھ دیر سے بجے ہوں، خدا کے کاموں میں ہم آپ کیا دخل دے سکتے ہیں۔
لیکن ہمارے دل میں دن بھر یہ شبہ رہا کہ قصور کچھ اپنا ہی معلوم ہوتا ہے“۔ دوسرا دن بھی یوں ہی آتا ہے جس کے متعلق پطرس کہتے ہیں:
”یہ معمہ اب مابعد الطبعیات ہی سے تعلق رکھتا ہے کہ پھر جو ہم نے لحاف سے سر باہر
نکالا، اور ورڈزورتھ پڑھنے کا ارادہ کیا تو وہی دس بج رہے تھے اس میں نہ معلوم کیا
بھید ہے۔“
کالج ہال میں لالہ جی ملے کہنے لگے مسٹر! صبح میں نے پھر آپ کو آواز دی تھی آپ نے
جواب نہ دیا؟
میں زور کا قہقہہ لگا کر کہا ”اوہو! لالہ جی یاد نہیں رہا میں نے آپ کو گڈ مارننگ
کہا تھا۔ میں تو پہلے ہی جاگ رہا تھا۔
بولے وہ تو ٹھیک ہے لیکن بعد میں… اس کے بعد … کوئی سات بجے کے قریب میں نے آپ سے
تاریخ پوچھی تھی تو آپ بولے نہیں۔
ہم نے نہایت تعجب کی نظروں سے ان کو دیکھا گویا وہ پاگل ہوگئے ہیں۔ اور پھر ذرا
متین چہرہ بنائے، ماتھے پر تیوری چڑھائے غور وفکر میں مصروف ہوگئے ایک آدھ منٹ تک
ہم اس تعمق میں رہے پھر یکایک ایک محبوبانہ اور معشوقانہ انداز سے مسکرا کر کہا
”ہاں ٹھیک ہے ٹھیک ہے میں اس وقت … اے… اے … نماز پڑھ رہا تھا۔ ایک شعر ہے:
عرفی تو میندیش زغوغائے رقیباں
یہی وہ خلافِ فطرت شاعری ہے جو ایشیا کے لئے باعث ننگ ہے۔ انگریزی میں ایک مثال ہے
کہ: بچہ مسکراتا ہے اور کلینڈر کی مختلف تاریخوں کی طرف
اشارہ کرتا ہے تو ماں کا دل
باغ باغ ہو جاتا ہے جب ننھا سا ہونٹ نکال کر باقی چہرے سے رونی صورت بتاتا ہے تو یہ
بے چین ہوجاتی ہے سامنے پنگوڑا لٹک رہا ہے۔ سلانا ہو تو افیم کھلا کر اس میں لٹا
دیتی ہے۔ رات کو اپنے ساتھ سلاتی ہے (باپ کے ساتھ دوسرا بچہ سوتا ہے) جاگ اٹھتا ہے
تو جھٹ چونک پڑتی ہے اور محلے ولوں سے معافی مانگتی ہے، کچی نیند میں رونے لگتا ہے
تو بےچاری مامتا کی ماری آگ جلا کر دودھ کو ایک اور ابال دیتی ہے جب صبح بچہ کی آنکھ کھلتی
ہے تو آپ بھی اُٹھ بیٹھتی ہے۔ اس وقت تین بجے کا عمل ہوتا ہے۔ دن چڑھے منہ دھلاتی ہے،
آنکھوں میں کاجل لگاتی ہے او رجی کڑا کرکے کہتی ہے کیا چاند سا مکھڑا نکل آیا ہے۔
واہ وا“
رُخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
شمعیں کئی ہوتی ہیں لیکن سب کی تصویر ایک البم میں جمع کرکے اپنے پاس رکھ چھوڑتے
ہیں اور تعطیلات میں ایک ایک خط لکھتے رہتے ہیں۔ دوسری قسم جلالی طلباء کی ہے۔ ان
کاشجرہ جلال الدین اکبر سے ملتا ہے اس لئے ہندوستان کا تخت وتاج ان کی ملکیت سمجھا
جاتا ہے۔ شام کے وقت چند مصاحبوں کو ساتھ لئے نکلتے ہیں اور جو دوسخا کے خم لنڈھائے
ہوئے پھرتے ہیں کالج کی خوراک انہیں راس نہیں آتی اس لئے ہوسٹل میں فروکش نہیں
ہوتے۔ تیسری قسم خیالی طلباء کی ہے یہ اکثر روپ اور اخلاق اور آداگون اور جمہوریت
پر باآواز بلند تبادلہ خیالات کرتے پائے جاتے ہیں۔آفرینش اور نفسیات جنسی کے متعلق
نئے نئے نظرئیے پیش کرتے ہیں۔ جسمانی صحت کو ارتقائے انسانی کے لئے ضروری سمجھتے
ہیں اس لئے علی الصباح پانچ چھ ڈنر پیلتے ہیں اور شام کو ہوسٹل کی چھت پرگہرے سانس
لیتے ہیں گاتے ضرور ہیں لیکن اکثر بےسرے ہوتے ہیں۔ چوتھی قسم خالی طلباء کی ہے، یہ
طلباء کی خالص ترین قسم ہے ان کا دامن کسی قسم کی آلائش سے تر ہونے نہیں پاتا۔
کتابیں، امتحانات، مطالعہ اور اس قسم کے خرخشے کبھی ان کی زندگی میں خلل انداز نہیں
ہوتے جس معصومیت کو ساتھ لے کر کالج میں پہنچے تھے اسے آخر تک ملوث نہیں ہونے دیتے
اور تعلیم اور نصاب اور درس کے ہنگاموں میں اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح بتیس
دانتوں میں زبان رہتی ہے۔ پچھلے چند سالوں سے طلباء کی ایک اور قسم دکھائی دینے لگی
ہے لیکن ان کو اچھی طرح سے دیکھنے کے لئے محدب شیشے کا استعمال ضرور ہے یہ وہ لوگ
ہیں جنہیں ریل کا ٹکٹ نصف قیمت پر ملتا ہے اور اگر چاہیں تو اپنی انا کے ساتھ زنانے
ڈبے میں بھی سفر کر سکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اب یونیورسٹی نے کالجوں پر شرط عائد کر
دی ہے کہ آئندہ سے صرف وہی لوگ پروفیسر مقرر کئے جائیں جو دودھ پلانے والے جانوروں
میں سے ہوں“۔ طبعی حالات میں کوئی خاص بات نہیں بتائی گئی صرف یہ لکھا گیا ہے
کہ:”لاہور کے لوگ بڑے خوش طبع ہیں“۔
گھٹا زور مشقِ سخن بڑھ گئی
مگر حقیقت یہ ہے، کہ لطافتِ تحریر اور قلمی البیلا پن مفقود ہو جاتا ہے۔ ذکر روشن آرا کا اور پھر بیاں اپنا
ہے اسی لئے شوخی بھی پیدا ہوگئی ہے۔مجرد شخص کی جب شادی ہوتی ہے تو اسے ابتداً اپنی زندگی میں تبدیلی دیکھ کر بڑی خوشی
ہوتی ہے مگر رفتہ رفتہ یہ حالت زائل ہوجاتی ہے اور پھر وہ وہی تنہائی اور بےلگامی
پسند کرنے لگتا ہے چنانچہ اس متاہلانہ زندگی میں کوئی وقفہ بیوی سے تھوڑی بہت عارضی
دوری کا مل جائے تو فوراً خوش ہوجاتا ہے اور بڑی مسرت کا اظہار کرنے لگتا ہے مگر
صرف چند گھنٹوں تک، اس کے بعد پھر ردعمل شروع ہوتا ہے اور تنہائی بری طرح ستانے
لگتی ہے چنانچہ پطرس نے بھی اسی تجربے کو بڑی ہی سادگی سے لکھ دیا ہے، وہ بیوی کے
جانے کے بعد جتنے خوش تھے ایک رات گزرتے ہی اتنے ہی مغموم ہوگئے اور نہ صرف مغموم
ہوئے بلکہ بیوی کو تار تک دے دیا کہ ”فوراً آجاؤ“۔
گھر خالی ہو اور بے تکلف احباب جمع ہوجائیں تو جوانی میں بالکل یہی کیفیت ہوتی ہے
جو تاش کھیلنے میں پطرس کی ہوئی چنانچہ چور بنے ہوئے چلم بدست کلاہ کاغذی برسررو
سیاہی کے عالم میں بیوی نے دیکھ لیا۔ اس کے بعد کی کیفیت پطرس ہی سے سنئے:
”روح منجمد ہوگئی اور تمام حواس نے جواب دے دیا روشن آرا کچھ دیر تو چپکی کھڑی
دیکھتی رہی اور پھر کہنے لگی… لیکن میں کیا بتاؤں کہ کیا کہنے لگی؟ اس کی آواز تو
میرے کانوں تک جیسے بےہوشی کے عالم میں پہنچ رہی تھی۔“
اس کے بعد پطرس نے صفائی پیش کی ہے مگر یہ حصہ وہ نہ لکھتے ہی تو بہتر تھا اس خاتمے
پر ہی قاری سب کچھ سمجھ لیتا دیکھ لیتا پالیتا سوچ لیتا اور محسوس کر لیتا ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ یہ مضمون بڑا ہی نفیس ہے یہ کلاہ کاغذی جس کے سر پر رکھ دیجئے بغلول
بن جاتا ہے۔ صاحبِ ذوق جوانوں میں اسی فیصدی ایسے نظر آئیں گے جن پر اس قسم کے
حادثات گزر چکے ہیں مگر دس فیصدی بھی اتنے صاحبِ کردار نظر نہ آئیں گے جو ڈنکے کی
چوٹ پر ان حادثات کا ذکر کر سکیں اور اگر وہ ایک ہمت کر بھی لیں تو انہیں اسلوب
نگارش نصیب نہ ہوسکے گا۔
بہ ظاہر ایک سیدھا سادھا واقعہ بیان کر دینا کوئی بات نہیں مگر اس عمدگی اس تسلسل
اس ہم آہنگی اس روانی میں اس ڈٹھائی اس صفائی اس شوخے اور شستگی اس خوب صورت اس
نفاست اور ندرت اور اس ہمت سے لکھنا کمال ہے اور یہ کمال پطرس میں بدرجہٴ اتم موجود
تھا۔
بس یہ کائنات ہے پطرس کے مضامین کی اتنے ہی مضامین ان کے مجموعہ میں ہیں۔ ان مضامین
کے علاوہ ان کی طالب علمی کے زمانے کے چند اور مضامین بھی ہیں جو راوی میں طبع ہوتے
رہے۔ پطرس نے گالزوردی، شا اور اسٹی ونسن کے ترجمے بھی کئے ہیں مگر افسوس کہ وہ اس
وقت میرے پیش نظر نہیں ہیں۔
پطرس نے اس ساٹھ سالہ مدت میں بہت کم لکھا ہے۔ ان کی نگارش کی ابتداء تقریباً بیس
سالہ عمر سے ہوئی ہے۔ اس طرح وہ چالیس سال لکھتے رہے مگر اس چالیس سال کی قلم کاری
اگر اکھٹی کی جائے تو بہ مشکل نقوش کے تین سو صفات پر محیط ہو سکے گی مگر یہ کمی
دوسرے انشا پروازوں کی زیادتی سے متاثر نہیں ہوتی۔ انشاء میں اصل چیز ندرت اور
نفاست ہے بہتات نہیں ورنہ بعض کم سوادوں نے آٹھ دس سال میں ہزاروں صفحات سیاہ کر
دیئے ہیں مگر ان کی نگارش میں کوئی بات نہیں۔ پطرس نے انگریزی ادب کی روح کو
ہندوستانی مزاج دے کر اپنی نگارش میں ایک خاص لطف، نکھار اور رکھ رکھاؤ پیدا کر لیا
تھا جو اپنی وضع کی ایک ہی چیز ہے۔ * * * |
میرا نام بخاری ہے |
بی۔ اے۔ ہاشمی کسی نے دروازے پر دستک دی۔"آجائيے۔" "السلام علیکم۔۔۔ امتیاز ہیں؟" "کمرہ آپ کے سامنے ہے دیکھ لیجئے۔" نمایاں طور مسکراتے ہوئے "میرا نام بخاری ہے امتیاز نے کہا تھا کہ وہ آپ کے پاس آئیں گے تو ابھی تک نہیں پہونچے۔ ناگوار خاطر نہ ہو تو میں یہاں بیٹھ کر ان کا انتظار کرلوں۔" "بسم الله۔" یوں میری اور بخاری صاحب کی ۱۹۳۰ء میں پہلی ملاقات ہوئی۔ بخاری صاحب بیٹھ گئے۔اِدھر اُدھر کی رسمی باتیں کرتے رہے پھر دہلی شہر گفتگو کا موضوع بن گیا۔ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ تک دہلی کے آثارقدیمہ سے لے کر کارخانہ داروں کے طورطریق اور رہن سہن کی باتیں ہوتی رہیں۔ سورج ڈھل گیا۔ مغرب کی اذانیں ہونے لگیں۔ بخاری صاحب بولے۔ امتیاز نہیں آئے میں نے آپ کا وقت ضائع کیا۔ زبان پر یہ لفظ تھے لیکن چہرے پر شادابی کہ اچھا کیا تیرا وقت ضائع کیا۔ پھر بولے آپ شام کو ٹہلنے نہیں جاتے۔ میں نے کہا التزاماً اس کے ليے کوئی وقت مقرر نہیں۔ جی چاہے تو چلیے۔ یوں بخاری صاحب اور میں ٹہلنے نکلے جوپھر مہینوں لیکن بےقاعدگی سے جاری رہا۔ آٹھ بجے کے لگ بھگ واپس آئے تو پھر میرے کمرے میں۔ ملازم نے کہا میاں کھانا لے آؤں۔ میں نے کہا ہاں۔ اپنی کرسی پر اطمینان سے بیٹھے ہوئے فضا کو مخاطب بنا کر بخاری صاحب بولے اب چلنا چاہیئے۔ میں نے عرض کیا دال روٹی یہیں کھا لیجیے۔ انڈوں اور دہی کے اضافے کے بعد کھانا آیا۔ ہم دونوں نے معمولی اور مختصر کھانے کو آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت میں ختم کیا۔ ساڑھے نو کے قریب بخاری صاحب بولے۔ اچھا بھائی میں چلا۔ میں گورنمنٹ کالج کے ہوسٹل کواڈرنیگل میں رہتا ہوں۔ میں بھی ہمراہی کے ليے ان کے ساتھ ہولیا۔ اور نیلے گنبد کے چوک سے واپس آگیا۔ اس کے بعد کم وبیش بلاناغہ شام کی ملاقاتوں کا سلسلہ کئی مہینوں تک جاری رہا۔ ہمارے ایک مشترکہ دوست کوبخاری صاحب کااس باقاعدگی سے میرے پاس تشریف لانا کچھ گراں گذرا۔ ایک دن وہ بولے کہ دیکھو بخاری! باوجود دیرینہ رسم کے تم میرے پاس نہیں آتے اور ہاشمی کے پاس روز آتے ہو، بخاری صاحب نے جواب دیا ملک صاحب یہ دل ملنے کے سودے ہیں۔ آپ اگر چاہتے ہیں کہ آپ کی خدمت میں روز حاضر ہوں تو میرے آنے کی ٹیوشن بلکہ 'وزیٹنگ فی' مقرر کردیجیے۔ سو روپیہ مہینے پر روز ایک گھنٹہ کے لئے مقرر وقت پر حاضر ہوا کروں گا۔ البتہ اتوار اور چھٹی کے دن نہیں۔ بخاری صاحب بڑی ہموار طبعیت کے آدمی تھے۔ اکثر باتیں ہنسی میں ٹال دیتے تھے۔ غالباً وہ چھوٹی چھوٹی ناگواریوں کو دوسروں کا مزاق اڑانے والے کا خمیازہ سمجھ کر ایسا کرتے تھے لیکن جب گرم ہوتے تو بہت گرم ہوجاتے مگر شاذونادر۔ بیدل صاحب اس زمانہ میں انارکلی کے دہلی مسلم ہوٹل میں رہتے تھے۔ ان کے پاس کبھی کبھی امتیاز، بخاری، اور چند اور دوست ملنے جایا کرتے تھے۔ ایک دن بیدل صاحب نے ازراہ شفقت دوپہر کے کھانے پر مدعو کیا۔ کھانا شروع ہوا تو بیدل صاحب کو خیال آیا کہ بخاری صاحب کو دہی سے بہت رغبت ہے۔ بولے آپ لوگ دہی کھائیں گے۔ یک زبان ہو کر سب نے عرض کیا۔ جی ہاں۔ بیدل صاحب نے آواز دی۔ ارے لمڈے۔ ایک آنے کا دہی لے آ۔ سستا زمانہ تھا لیکن ایک آنے کا دہی تو اس وقت بھی ایک ہی آنے کا ہوتا تھا۔ بیدل صاحب یہ دہی کیا ملنے کے ليے منگایا ہے، بیدل صاحب ذرا تنک مزاج تھے، برہم ہوگئے۔ بخاری صاحب نے بھی خلاف معمول برہمی کا جواب برہمی سے دیا۔ بہرحال بات آئی گئی ہوئی لیکن لوگ بدمزہ ہو کر لوٹے۔ بخاری صاحب غیرارادی طور پر ہمیشہ محفل کی توجہ کا مرکز خود ہی رہنا چاہتے تھے۔کبھی علم میں ٹھٹھول کی چاشنی اور کبھی ٹھٹول میں علم کی لاگ لفظوں کے الٹ پھیر سے، بات کی برجستگی سے ذہانت اور حسب موقع معصوم روئی سے وہ ہر بات اور ہر حرکت میں ایک ایسی لذت بھر دیتے تھے کہ محفل کی نگاہیں اور کان ان کے ليے وقف ہوجاتے تھے۔ ایکٹر اور تمثیل کار ایک معنوں میں خوش نصیب ہوتے ہیں۔ وہ اپنی پسند کے مطابق اپنے پارٹ تجویز کرتے ہیں۔ کبھی تخت شاہی اور کبھی کاسہ گدائی، کبھی ہمہ وقت خوش باشی اور خوش کامی اور کبھی پیہم مصائب وآلام۔ لیکن زندگی کا رنگ نرالا ہے۔ اس میں اپنی پسند اور انتخاب کو زیادہ دخل نہیں ہوتا۔ اس میں رنج اور خوشی توام ہیں۔ تاہم ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کوئی زندگی کو تمثیل کارہی بنالے۔ مقصود صرف یہ ہوتا ہے کہ زندگی کا صرف وہی رخ پیش کرے جو اوروں کی خوشی اور اپنی بالیدگی کا باعث ہو۔ بخاری صاحب کی زندگی کا فلسفہ اور شیوہ یہی تھا۔ تاہم ان کے نیازمندوں میں دو تین ایسے شخص بھی تھےجن کے سامنے دکھ سے رو دیئےہوں یا خوشی سے ہنس پڑے ہوں۔ شاذونادر ہی سہی لیکن ایسا بھی ہوا ہے کہ یہ چہکنے والا بخاری اور ہر بات میں امرت گھولنے والا بخاری اپنے کسی نیازمند کے پاس آدھ آدھ گھنٹہ خاموش بیٹھا رہا ہے۔ ایسے موقعوں پر اس کا دل اس کی زبان سے زیادہ بلاغت اور ندرت سے اپنی کہتا تھا۔ اور دوسروں کی سنتا تھا۔ یہ لمحے اس کے نیازمندوں کو نہیں بھول سکتے اور خواہ کوئی خود کو کتنا ہی زبان آور اور قلم کا دھنی کہے، بیان نہیں کئے جاسکتے: محبت
کےفسانے دیدہ ودل کی امانت ہیں بخاری صاحب احسان فراموش نہیں تھے لیکن احسان مندی کے اعلان کے بھی قائل نہ تھے۔
ان کی رائے میں اظہار احسان مندی محسن کو خفیف اور خود کو بھکاری بنا دینے کے
مترادف تھا۔ محکمہ تعلیم اور پھر آل انڈیا ریڈیو کی ملازمت کے زمانے میں وہ ہمیشہ
جو
مکھی لڑاتے رہے لیکن یہ کبھی ظاہر نہیں کیا کہ وہ عمریا زید سے برسرپیکار ہیں۔ ایک
بار ریڈیو کی ملازمت کے دوران میں دشمن نے نرغہ کیا۔ وائسرائے کی ایکزیکوٹیوکونسل
کے ایک مسلمان ممبر نے بےطلب ودرخواست پانسہ بخاری صاحب کے حق میں پلٹ دیا اور یوں
بخاری صاحب نے تشویش سے نجات پائی لیکن اس کے بعد بخاری صاحب ان صاحب کے سامنے پڑنے
سے بچتے رہے۔ میں اس قصے سے آگاہ تھا۔ ایک دن میں نے بخاری صاحب سے کہا کہ دیکھو
فلاں نے تمہاری یہ مدد کی اور تم یوں طرح دے جاتے ہو کہ سامنے جاکر سلام ودعا بھی
نہیں کرتے۔ وہ تمہارے شکریہ کے محتاج نہیں لیکن تمہاری شرافت کا تو یہی تقاضا ہونا
چاہیئےکہ تم شکرگزار ہو۔ بولے۔ سنو بھائی یہ پرانے زمانےکے بزرگ ہیں۔ بے کہیے انہوں
نے کرم فرمایا تھا۔ ان کے احساس خوش کاری اور فتح مندی کو میں شکریہ کے چند جملے
کہہ کر کیوں ضائع کروں۔ آئے خدا کرے یہاں پر نہ کرے خدا کہ یوں مجھے بخاری صاحب کے کمرے میں پہنچا کر فرنگی رخصت ہوگیا۔ ہم دونوں باتیں میں
مشغول ہوگئے لیکن چند منٹ ہی گزرے ہوں کہ وہ صاحب پھر آگئے۔ کاروباری بات کی مجھ سے
معافی مانگتے ہوئے بخاری صاحب سے مخاطب ہوئے کہ ایک ضروری دورے پر وہ اگلے ہفتہ خود
مدراس جائیں گے اور اس ليے بخاری صاحب کے پیش نظر جو بھی پروگرام ہو وہ منسوخ کردیا
جائے۔ چونکہ بخاری صاحب کو دفتر میں موجود رہنا ہوگا۔ نہایت خوش ہو کر بخاری صاحب
بولے۔ آپ ضرور مدراس جائیے شکر کا مقام ہے کہ میں گرمی کے زمانے میں ریل میں بیٹھ
کر ریگستان کی خاک پھانکنے سے بچ گیا۔ دلی کا خوشگوار موسم، دفتر کا دل پسند کمرہ،
میں نہایت خوشی سے دفتر میں رہوں گا۔ کسے کہ محرم باد صبا است میداند کہ باوجود خزاں بوئے یاسمن باقی است یہ قصے کہاں تک لکھے جاؤں اگر اس زمانے میں انتہائی عدیم الفرصتی نہ ہوتی تو بھی یہ داستان اتنی طویل ہے کہ اس کا لکھنا میرے بس کی بات نہیں۔ ایک بار میں نے بخاری صاحب سے کہا کہ میرے نزدیک 'کلچرڈ' آدمی کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ وہ تنہائی سے نہ گھبرائے اور آپ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تنہائی سے خوف زدہ رہتے ہیں یعنی میرے نزدیک آپ کلچرڈ آدمی نہیں ہیں یا میری 'کلچرڈ' ہونے کی تعریف غلط ہے۔ باوجود میرے کچھ کہنے کے کوئی جواب نہ دیا۔ چہرے پر افسردگی نمایاں ہوگئی۔ میرا گمان ہے کہ بخاری صاحب کے تحت الشعور میں ان کی زندگی کے کم از کم آخری دس پندرہ سالوں میں جان لیوا مرض کا دھڑکا لگا رہتا تھا۔ ضبط نے کبھی انہیں اجازت نہ دی کہ وہ اس کو ظاہر کریں۔ لیکن وہ ہمیشہ انجام مرض سے خائف رہے۔ اس دن کے بعد میں نے اس قسم کی کوئی بات بخاری صاحب سے نہ کی۔ * * * |