*/?>
*/?>

Akhri Lamhat (پروفیسر بخاری کے آخری لمحات)

پروفیسر بخاری کے آخری لمحات

 

مارملی ہچمین

"وہ آخری لمحے تک زندہ رہے" ان کے ڈاکٹر کا قول ہے "وہ کام کرتے ہوئے مرے"۔ اقوام متحدہ میں ان کے ایک رفیق کار کا کہنا ہے کہ دونوں حضرات پروفیسراحمد شاہ بخاری سے بہت قریبی تعلق رکھتے تھے۔ ان کے ڈاکٹر ان کے دوست بن گئے تھے۔ اور انہوں نے بخاری کے سفر زندگی کی رفتار کو حتی المقدور کم کرنا چاہا تھا مگر پروفیسر صاحب (جیسا کہ لوگ انہیں محبت سے کہتے تھے) یہ نہیں چاہتے تھے کہ اپنے معذور ہونے کا اعلان کردیں۔ گو وہ چند سال سے اچھے خاصے بیمار رہتے تھے۔ ان پر دل کا پہلا دورہ ۱۹ اگست ۱۹۵۳ء کو پڑا۔ پروفیسر بخاری کو اس کا اتنا شدید احساس تھا کہ وہ جب اسپتال میں طبی مشورے کے ليے گئے تو انہوں نے اپنا نام "مسٹر براؤن" لکھوایا۔ اس دورے کی وجہ سے وہ کمزور ہوگئے تھے لیکن انہوں نے اقوام متحدہ کے انڈرسیکرٹری کا کام شروع کرنے سے احتراز نہ کیا بلکہ چارج لینے سے قبل مسٹر ڈیگ ہیمرشولڈ کے ساتھ چین کے تاریخی دورے میں کام شروع کردیا۔
وہ بڑی مصروف زندگی بسر کرتے تھے۔ انہیں کسی چیز کا خوف نہ تھالیکن وقتاً فوقتاً ان پر دل کا دورہ پڑتا تھا۔ وہ بےہوش ہوجاتے تو انہیں آکسیجن میں رکھا جاتا تھا۔ وہ کچھ دن آرام کرکے پھر اُٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ اور پھر اس طرح مستعد نظر آتے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ گذشتہ چند سال سے ان کی صحت بری طرح گرنے لگی تھی۔ دل کے دورے جلد پڑنے لگے تھے۔ ان کی صحت جلد گرجانے کی کئی وجوہ
تھیں۔ اول توزندگی سے ان کی والہانہ محبت تھی۔ پھر وہ ریشہ دوانیاں جو ان کے خلاف ہوتی رہیں۔ جب کوئی تیز اور ذہین آدمی کسی بین الاقوامی ادارے میں اعلیٰ جگہ حاصل کرلیتا ہے تو اس کی باتیں ہوتی ہی رہتی ہیں۔
جب مسٹر ہمیرشولڈکی مدت کے پانچ سال ختم ہوگئے اور ان کے نائبین کے استعفے دینے کی بات ہوئی تو رسم کے مطابق سب کو ایک سال کی توسیع دے دی گئی۔ یہ مدت توسیع اپریل ۱۹۵۹ء میں ختم ہو رہی تھی۔ اور اس کے بعد پروفیسر بخاری کولمبیا یونیورسٹی میں تعلیمی ذمہ داریاں سنبھالنے والے تھے۔ پہلے مہینے وہ بہت پریشان ہوئے۔ جب کہ اسمبلی کی ایک کمیٹی نے شعبہ اطلاعات کے بارے میں تحقیقات شروع کیں وہ چونکہ حد درجے کے حساس تھے اس لئے اس تحقیقات کے متعلق یہ سمجھتے تھے کے اس طرح سے ان پر تنقید کی جارہی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ اسمبلی کئی سال سے شعبہ اطلاعات کے مصارف کم کرنے کی فکر میں تھی۔ اور اس کمیٹی کی تحقیقات اس ليے کئی سال کی جدوجہد کا آخری مرحلہ تھی۔ نومبر میں جب اس پانچویں کمیٹی کی بحث ہوئی تو ان لوگوں کو کامیابی ہوئی جو نام نہاد ماہرین کی سفارشات کی مخالفت کر رہے تھے۔ اور یہ طے پایا کہ یہ کام صدر دفتر کے ذمہ کردیا جائے۔ اس کامیابی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اقوام متحدہ کے شعبہ اطلاعات کو محض پروپیگنڈہ بیورو بنا دینے کی نامہ نگاروں نے سخت مخالفت کی اور خود مسٹرڈیگ ہیمرشولڈ کو بھی اس پر شدید اعتراض تھا۔

موت کی باتیں
بحث کا جو نتیجہ نکلا اس سے گو پروفیسر بخاری مطمئن ہوگئے مگر اس بحث ومباحثہ کے دوران ان پر جو بار پڑا، ان سے ان کی وفات کا وقت قریب تر آگیا۔ اگر یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی تو شایدوہ مزیدچھ ماہ سے دو سال تک زندہ رہ سکتے تھے لیکن جو کچھ ہوا یہ نہ ہوتا تب بھی غالباً زیادہ دن دنیا میں نہ رہتے۔ وہ اپنے ڈاکٹرسے اس تلخ ترین حقیقت (موت) کے بارے میں اکثر یہ سوال کیا کرتے تھے کہ "بتائیے خدارا بتائیے موت کب آئے گی؟"
گذشتہ اپریل میں نامہ نگاروں نے مسٹر ہیمرشولڈ کے اعزاز میں جو لنچ دیا تھا، اس میں پروفیسر بخاری بیمار ہوگئے ڈاکٹر نے انہیں کچھ ٹھیک ٹھاک کردیا۔ انہیں انجکشن لگایا گیا جس سے ان کا بلڈپریشر کم ہوگیا۔ اور وہ صاحبِ فراش ہوگئے۔ انتقال سے ایک دن قبل پھر ان کو انجکشن لگایا گیا۔ انہیں معلوم تھا کہ چلنے پھرنے اور اُٹھنے سے انہیں نقصان ہوگا مگر وہ اُٹھ بیٹھے اور آخر جو ہونا تھا وہ ہوا۔ وہ بےہوش ہوگئے۔ اور انہیں آکسیجن میں رکھ کر گھر پہنچایا گیا۔ ڈاکٹروں نے جو کرسکتے تھے کیا، شام کو انہیں کچھ افاقہ معلوم ہوا۔
ڈاکٹر کو بھی بخاری کی طرح شیکسپئیر سے بڑی محبت تھی۔ اس شام کو ڈاکٹر نے ان سے پوچھا کہ میں رات آپ کے ساتھ بسر کرسکتا ہوا؟ پروفیسر بخاری نے کہا۔ "نہیں۔ نرس موجود ہے آپ زحمت نہ کریں"۔ اور پھر ڈاکٹر نے جاتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا۔ "خداحافظ، شہزادہ شرمیں!"
صبح ہوتے ساڑھے پانچ بجے نرس نے ڈاکٹر کو اطلاع دی کہ مریض کی حالت تشویشناک ہے۔ سوا چھ بجے وہ اس دنیا سے سدھارچکے تھے۔ انہوں نے موت کا کرب تک محسوس نہ کیا۔ جمعہ کو اقوام متحدہ کی جتنی کمیٹیوں کے جلسے ہوئے سب میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور اسمبلی کے اجلاس میں بھی ان کا سوگ منایا گیا۔ پہلی کمیٹی میں جب انہیں خراج عقیدت پیش کیا جاچکااور آغاشاہی اس کا جواب دینے کے ليے اُٹھےتو ان کی آواز کانپ رہی تھی۔ پرنس علی خاں نے اسمبلی کے بھرے اجلاس میں کہا۔ "ان کے اُٹھ جانے سے اقوام متحدہ کے برآمدے سنسان نظر آئیں گے"۔
اقوام متحدہ کے شعبہ اطلاعات میں جو لوگ ان کے ساتھ کام کرتے تھے وہ ان سے بےپناہ محبت کرتے تھے اب یہ لوگ بہت افسردہ نظر آتے تھے نامہ نگاروں کو جو انہیں ایک مندوب کی حیثیت سے جانتے تھے (اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ پاکستان کے بہترین مندوب تھے اور پاکستان کو عرصے تک ایسا مندوب مشکل سے ملے گا) اب یہ احساس ہوگا کہ ان کے ہلکے پھلکے مزاحیہ جملوں میں کس قیامت کی ذہانت پوشیدہ ہوتی تھی۔
نامہ نگاروں نے انہیں شمالی افریقہ کی آزادی کے ليے نسلی امتیاز ختم کرنے کے ليے بڑے سے بڑے سیاست دانوں سے سوال وجواب کرتے دیکھا ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کبھی ان مباحثوں میں زیر نہ ہوئے تھے۔
ہمہ دم مسکراتی اور پرُمذاق شخصیت کے پس پردہ وہ ایک سنجیدہ بخاری بھی تھے۔ وہ مزاح کی نقاب اتار کر ضرورت کے وقت انتہائی سنجیدہ بات کرسکتے تھے اور کرتے تھے لیکن مزاح کی نقاب وہ تحفظ کے طور پر اکثر وبیشتر ڈالے رہتے تھے۔

* * *