*/?>
*/?>

A.S.B (اے۔ایس۔بی)

اے۔ایس۔بی

(شوکت تھانوی)

"زیڈ۔ اے۔ بی" کے بڑے بھائی کو ہم لوگ "اے۔ایس۔بی" ہی کہا کرتے تھے ورنہ محض بخاری صاحب کہنے میں سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ کون سے بخاری صاحب، بڑے یا چھوٹے؟ اور پورا نام لینے میں یعنی احمد شاہ بخاری اور ذوالفقار علی بخاری کہنے میں کچھ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اتنی سی تو عمر ہے اتنے بڑے بڑے نام لے کر اس کی خواہ مخواہ فضول خرچی کیوں کی جائے۔لہذا ریڈیو والے عموماً ان دونوں بھائیوں کو اےایس بی اور زیڈ اے بی ہی کہنے میں کفایت شعاری کے زریں اصول پر عمل کیا کرتے تھے ..... لیکن یہ میں نے بیچ دھڑے سے ریڈیو کی بات کہاں شروع کردی۔ ریڈیو سے تو میرا تعلق اس وقت پیدا ہوا ہے جو آل انڈیا ریڈیو کا لکھنو اسٹیشن قائم کیا گیا ہے اور میں اے۔ ایس۔بی سے بحیثیت پطرس کے اس سے پہلے ہی مل چکا تھا۔ یعنی اس وقت جو میں لکھنؤ سے بحیثیت "ٹاکر" تقریباً ہر ہفتہ آل انڈیا ریڈیو دہلی جایا کرتا تھا اور تاکے بیٹھا تھا کہ پطرس سے ملاقات ہوتے ہی ان کو بھی اسی طرح پھانس لوں گا جس طرح مولانا نیاز فتحپوری، عظیم بیگ چغتائی، فرحت الله بیگ اور رشید احمد صدیقی کو پھانس چکا ہوں۔ اپنے ایک مجموعہ مضامین پر مولانا نیاز فتح پوری سے مقدمہ لکھواچکا تھا۔ اس مجموعے کا نام "بحر تبسم" تھا۔ دوسرے مجموعہ "سیلاب تبسم" پر مرزا عظیم بیگ چغتائی سے مقدمہ لکھوایا تھا۔ تیسرے مجموعہ "طوفان تبسم" پر مرزا فرحت الله بیگ نے مقدمہ لکھاتھا۔ چوتھے مجموعہ "دنیائے تبسم" پر رشید احمد صدیقی کا مقدمہ تھا اور اب ایک اور مجموعہ پر مقدمہ لکھنے کو پطرس بخاری پر نشانہ باندھ چکا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ جو اپنی تقریر نشر کرنے دہلی گیا تو اس نئے مجموعے سے مسلح ہوکر گیا اور بخاری صاحب کو ان کے دفتر میں جالیا۔ بڑے خلوص سے ملے بلکہ مجھ کو کچھ شبہ سا ہونے لگا کہ میں ان سے پہلی مرتبہ نہیں مل رہا ہوں، یعنی ان سے مرعوب ہونا چاہتا اور وہ اس کا موقع ہی نہ دیتے تھے۔ ہرچند کہ وہ جس وقت ڈپٹی کنٹرولر براڈ کاسٹنگ کی کرسی پر بیٹھے تھے، مگر مجھ کو اس سے کیا میں تو ایک عظیم مزاح نگار کے سامنے ان کے ایک عقیدت مند کی حیثیت سے حاضر تھا اور ان کی عظمت کا احساس مجھ پر طاری تھا۔ جس کو وہ اپنے انتہائی یگانگت اور مساوات کے برتاؤ سے غیر محسوس بنائے دیتے تھے۔ آخر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد میں حرف مطلب زبان پر لایا اور بخاری صاحب سے اپنے نئے مجموعہ مضامین پر مقدمہ لکھنے کی درخواست کی تو بڑی خندہ پیشانی سے بولے:۔
"یہ کیا مقدمہ بازی لے بیٹھے آپ؟"
میں نے عرض کیا، "جی ہاں یہ چھوٹا منہ بڑی بات ضرور ہے مگر میں آپ سے وعدہ لیے بغیر ٹلنے والا نہیں ہوں۔"
کچھ ہنستی ہوئی آنکھوں سے گھورا۔ کچھ سر پر ہاتھ پھیرا اور گویا عاجز آکر مسکراتے ہوئے بولے، "اگر آپ اپنے مقدمہ نگاروں کی ٹیم ہی مکمل کرنا چاہتے ہیں تو بہتر ہے لکھ دوں گا مقدمہ۔"
وہ وعدہ لیکر میں بڑے فاتحانہ انداز سے واپس آیا۔ مگر اس ملاقات کے بعد ہی حالات کچھ کے کچھ ہوگئے۔ آل انڈیا ریڈیو نے لکھنو میں بھی اپنا اسٹیشن کھول دیا اور اس اسٹیشن کے ڈائریکٹر جگل کشور مہر اور پروگرام ڈائریکٹر ملک حسیب احمد نے اپنے محکمہ کو نجانے کیا پٹی پڑھائی کہ مجھ کو بھی صحافت چھوڑ کر ریڈیو سے وابستہ ہوجانا پڑا۔ اور اس کے چند ہی دن بعد میرا وہ مسودہ جو میں بخاری صاحب کے پاس چھوڑ آیا تھا مجھ کو ان کے اس خط کے ساتھ واپس مل گیا کہ "اب جو کہ آپ کو ریڈیو میں ایک منصب حاصل ہوچکا ہے عافیت کا تقاضا یہی ہے کہ آپ مجھ سے مقدمہ نہ لکھوائیں اور میں مقدمہ نہ لکھوں۔" بات بھی ٹھیک تھی لہذا یہ ارمان دل کا دل ہی میں رہ گیا اور بقول بخاری صاحب کے میری مقدمہ نگاروں کی ٹیم مکمل نہ ہوسکی۔ اب بخاری صاحب محکمہ کے افسر اعلیٰ تھے اور میں محکمہ کا ایک ادنیٰ کارپرداز۔ لہذا جب وہ لکھنؤ اسٹیشن معائنہ کے لئے تشریف لائے تو میں نے ان سے دانستہ کترانے کی کوشش کی، مگر خود انہوں نے عمداً گھیر گھیر کر اس کوشش کو ناکام بنادیا۔ یہ ان کی عالی ظرفی تھی کہ وہ اس توجہ سے کام لیتے رہے۔ مگر مجھ کو اپنے حدود کا اندازہ تھا اور میں ان حدود سے آگے نہ بڑھتا تھا۔ کچھ دن کے تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ بخاری صاحب کے جس سلوک کو میں اپنے ساتھ خصوصیت سمجھتا تھا وہ ہر ایک کے لئے عام تھا اور ان کا طریقہ ہی یہ تھا کہ سرکاری اور محکمہ جاتی کام کے وقت وہ نہایت بھاری بھر کم قسم کے افسر بنے رہتے تھے اور کام ختم ہوتے ہی نجی صحبتوں میں ان ہی سب کے بے تکلف دوست بن جایا کرتے تھے جن پر تھوڑی دیر پہلے ان کا رعب قائم رہ چکا تھا۔انھیں لطیفے سنا رہے ہیں، نئےلطیفے سنانے کی فرمائش کررہے ہیں، بات سے بات پیدا کر رہے ہیں، ہنس رہے ہیں اور ہنسا رہے ہیں۔ ایک دن اسی قسم کی نجی صحبت میں ہنس بول رہے تھے کہ ایک بھولی بسری بات یاد کر کے ٹہلتے ہوئے میرے قریب آکر سرگوشی کے انداز میں بولے:۔
"مجھ کو بری کرنے کے بعد آپ نے وہ مقدمہ کس پر دائر کیا؟"
میں نے کہا، "کسی پر نہیں، وہ مجموعہ بغیر مقدمہ کہ چھپ گیا۔"
کہنے لگے، "اور میری یہ سزابحال رہی کہ میں اسے نہ پڑھ سکوں۔"
میں کتاب پیش نہ کرنے پر ابھی پوری طرح نادم بھی نہ ہونے پایا تھا کہ بڑی معصومیت کے ساتھ پوچھا، "آخر لوگ مقدمہ لکھواتے ہی کیوں ہیں۔ مجھے تو یہ حرکت کچھ ایسی معلوم ہوتی ہے جیسے کوئی کسی کی انگلی پکڑ کر ٹہل رہا ہو بلکہ انگلی پکڑ کر میلہ دیکھنے گیا ہو۔"
میں نے اعتراف کیا کہ "جی ہاں میں اس حماقت کو سمجھ چکا ہوں اور اب اس مقدمہ بازی کے چکر میں نہ پھنسوں گا۔"
بڑی سنجیدگی سے بولے، "الله تعالیٰ آپ کو استقامت دے۔"
کچھ ہی دنوں بعد مجھ کو لاہور سے پنچولی آرٹ پکچر ز والوں نےطلب کرلیا۔ اور میں نے ریڈیو سے علیحدگی کے وقت بخاری صاحب کو ایک الوداعی خط لکھا جس کا جواب مجھ کو فوراً مل گیا کہ:۔
"امتیاز (سید امتیاز علی تاج) کے بعد آپ کے بھی پنچولی آخر نکل ہی آئی، خداوند کریم آپ کو صحت کلی عطا فرمائے۔ آپ جارہے ہیں خدا حافظ۔ ریڈیو کے دروازے ہر وقت آپ کے لئے کھلے ہوئے ہیں۔ دروازہ صرف جانے کے لئے آنے کے لئے بھی ہوتا ہے۔"
اور جب پنچولی آرٹ پکچر ز سے گزیٹیڈ افسر بننے کے شوق میں سونگ پبلسٹی آفیسر ہو کر میں پھر لکھنو آگیا تو بخاری صاحب ڈپٹی کنٹر ولر نہیں بلکہ کنٹرولر براڈ کاسٹنگ کی حیثیت سے لکھنؤ کے دورے پر آئے اور مجھے خاص طور پر ملنے کے لئے بلابھیجا۔ میں نے اپنی تازہ کتاب "شیش محل" پیش کی اور جب دوسرے دن ریڈیو والوں نے ان کے ساتھ ہی مجھ کو بھی لنچ پر مدعو کیا تو میری صورت دیکھتے ہی بولے:۔
"ساری رات شیش محل کی سیر کی ہے نشہ ابھی تک باقی ہے۔ کیسے کیسے بھر پور مصرے کہے ہیں جابجا....... ہزاروں سلام پہنچیں اس خاتون مشرق کو جو احسان کے بچوں کی ماں تک ہے۔ احسان کی رفیقہ حیات ہونا تو درکنار..... اور وہ افسر میرٹھی کے لئے کیا لکھا ہے کہ بچپن سے ان کو دیکھ رہے ہیں مگر اب بھی آپ ہمارے برابر ہی نظر آتے ہیں۔ معلوم نہیں یہ لوگ فریجریٹر میں بیٹھ کر عمر کو ایک جگہ قائم رکھتے ہیں یا مصری ممی لگانے والا مسالہ اپنے زندہ جسم پر لگالیتے ہیں۔"
اور مجھ کو اس تبصرے سے زیادہ خوشی اس کتاب کی رائلٹی وصول کرتے وقت بھی نہ ہوئی تھی اتنے بڑے مزاح نگار کی یہ سند میرے اترانے کے لئے بہت کافی تھی۔
سونگ پبلسٹی کے محکمہ میں چار پانچ سال تک گانے بجانے کی گزیٹیڈ افسری کر کے میں پھر اپنی اوقات پر آگیا اور پنچولی آرٹ پکچر ز سے پھر وابستہ ہوگیا۔ا گر ۱۹۴۷ء ہی میں جب قیام پاکستان کے بعد پنچولی صاحب بمبئی سدھارے اور ریڈیو پاکستان کی داغ بیل پڑی تو ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل چھوٹے بخاری یعنی سید ذوالفقار علی بخاری نے مجھ کو پروانہ تقرر دیتے ہوئے کہا کہ "یہ فیصلہ آپ خود کیجئے کہ یہاں آپ کیا کریں گے۔ اپنے لئے کام خود پیدا کیجئے۔" چنانچہ میں اپنے لئے کام پیدا کرنے میں اس طرح مصروف ہوگیا کہ اپنے کو بحیثیت قاضی جی کے پیدا کرنا شروع کردیا۔ اے۔ایس۔بی۔ ڈائریکٹر جنرل آل انڈیا ریڈیو کے عہدے سے اپنے آپ کو سبکدوش کراکے گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل کی حیثیت سے دہلی سے لاہور آچکے تھے۔ اور اب ان کے بنگلے پر شام کی نشتیں ہوا کرتی تھی۔ جن میں ڈاکٹر تاثیر، مولانا سالک، صوفی تبسم معہ اپنے حقہ کے، جگل کشور مہر اجو مشرف بہ پاکستان ہوچکنے کے بعد مشرف بہ اسلام ہونے کے ارادے کررہے تھے۔ سید رشید احمد، مولانا چراغ حسن حسرت اور سید امتیاز علی تاج کے اجتماع رہتے تھے۔ جو نہیں آتا تھا اس کو بخاری صاحب خود جا کر پکڑ لاتے تھے۔ جو آجاتے تھے ان کو رات گئے بلکہ کبھی کبھی صبح ہونے سے قبل اپنی کار پر گھر چھوڑنے جاتے تھے اور یہ نصیحت کرتےجاتے تھے کہ رات کو خواہ کہیں رہو مگر صبح اپنے بستر ہی سے اٹھو۔ اکثر ایسا بھی ہوا ہے کہ رات کو تین بجے آئس کریم کھانے کا دورہ پڑا اور کوشش کی گئی کہ پگھلے ہوئے آئس کریم والوں کو جس طرح بھی ہو اسی وقت جمایا جائے اور حیرت ہے کہ اس وقت بھی ان کو کہیں نہ کہیں آئس کریم مل ہی گئی اور آئس کریم والے جمع جمائے ڈھونڈ ہی لئے کہیں نہ کہیں سے۔
ریڈیو پاکستان لاہور کے اسٹیشن ڈائریکٹر جگل کشور مہرا پاکستان کے زندہ باد ہونے کے بعد خود عجیب مردہ باد بن کر رہ گئے تھے، کہ بخاری، اردو اور لاہور کے محبت میں رہ تو پڑے پاکستان میں مگر نجانے کیوں ان کو اپنا جگل کشور مہرا ہونا پاکستان میں کچھ پیوند سا نظر آرہا تھا۔ بڑے اور چھوٹے ہر قسم کے بخاری نے ان کو سمجھایا، دوسرے دوستوں نے بھی اس جلد بازی سے روکا مگر ہوا یہی کہ ایک دن چند مخصوص احباب کی موجودگی میں بخاری صاحب کے گورنمنٹ کالج والے بنگلہ میں وہ مولانا غلام مرشد کے دست حق پرست پر مشرف بہ اسلام ہوکر کلمہ شہادت پڑھتے اور مولانا غلام مرشد سے اس کا تفصیلی بلکہ تفصیلی سے بھی کچھ زیادہ ترجمہ سمجھتے نظر آئے اور عین اس وقت جب وہ جگل کشور سے یکایک احمد سلمان بن چکے تھے اسی جگہ ان کی ترقی کے احکام موصول ہوئے کہ وہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان مقرر کردئے گئے۔ اس کے بعد ہی دوسرا شرعی اجتماع خود احمد سلمان صاحب کی کوٹھی پر اس وقت ہوا جب ان کے نکاح کا مرحلہ درپیش تھا، اور محمود نظامی صاحب کے ذمہ تھا، قاضی کو بلانا جوتھوڑی دیر کے بعد ایک چھوارا نثراد مولانا کو نہ جانے کہاں سے پکڑ لائے۔ بخاری نے ان مولانا کو بڑے غور سے دیکھا اور میرے کان میں کہا کہ "نکاح کے لئے قاضی اور چھوارے دو چیزیں ضروری ہوتی ہیں۔ نظامی ان دونوں چیزوں کو ملا کر لے آیا ہے۔" اس تقریب میں سید ذوالفقار علی بخاری دولہا کے ولی بنے اور میں دلہن کا ولی۔ ہم دونوں مہر کے تعین پر تھوڑا بہت لڑ جھگڑ کر آخر تصفیہ تک پہنچ ہی گئے۔ بخاری صاحب صرف تماشائی بنے بیٹھے رہے۔ چھوٹے بخاری وکیل بنے، گواہ میں بنا اور دوسرے گواہ محمود نظامی صاحب۔ اور جب دلہن سے پوچھ کر ہم لوگ قاضی صاحب کے پاس آگئے تو کچھ نہ پوچھئے کہ ان کو محض یہ سمجھانے میں کتنے لوہے لگے ہیں کہ دلہن کا نام سلمےٰ نہیں بلکہ انور ہے اور دولہا کا نام انور نہیں بلکہ سلمان ہے۔ اس کے بعد بھی یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ قاضی صاحب نے ان دونوں میں سے کس کو دولہا اور کس کو دلہن سمجھ کر نکاح پڑھایا ہے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ نکاح ان ہی دونوں کا ہوا تھا اور غالباً یہ بات ان ہی دونوں پر چھوڑ دی گئی تھی کہ اپنا دولہا دلہن ہونا خود آپس میں طے کرتے رہیں۔ البتہ جو خطبہ بعد میں پڑھا ہے اس کے متعلق بخاری صاحب کا بیان یہ تھا کہ یہ خطبہ نکاح کا نہیں بلکہ جمعہ کا تھا۔ اس خطبے کے بعد بخاری نے دور سے ایک چھوارا ان مولوی صاحب کو دکھاتے ہوئے کہا، "مولانا چھوارا۔" اور مولانانے اپنا پوپلا منہ چلاتے ہوئے کہا، "جی بسم الله" بخاری صاحب نے "جزاک الله" کہا اور چھوارا کھاگئے۔
اس کے بعد ہی یہ شیرازہ منتشر ہوگیا۔ ریڈیو پاکستان کا ہیڈکواٹر کراچی چلاگیا۔ چھوٹے بخاری صاحب معہ رشید احمد صاحب اور احمد سلمان صاحب کے کراچی چلے گئے۔ بڑے بخاری صاحب یواین او میں جاپہنچے، میں لاہور ہی میں رہ گیا۔ اس سناٹے میں اپنے کو الجھانے کے لئے کئی سال بعد کراچی میں اپوا کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان مشاعرہ منقعد ہوا۔ بخاری صاحب ان دنوں امریکہ سے کراچی آئے ہوئے تھے۔ لہٰذا میں نے اس مشاعرے کی دعوت کو فوراً قبول کر لیا۔ کہ کراچی میں بخاری صاحب سے ملاقاتیں رہیں گے۔ سلمان صاحب بھی وہیں ہیں، رشید صاحب اور چھوٹے بخاری صاحب بھی وہیں۔ ایک مرتبہ پھر کھلی صحبتیں گرم ہوجائیں گے اور کراچی پہنچ کر جب یہ معلوم ہوا کہ اس مشاعرے کی صدارت بھی بخاری صاحب ہی کررہے ہیں تو اور بھی خوشی ہوئی۔ مشاعرے میں پہنچنے میں ذرا دیر ہوگئی۔ چنانچہ جب میں پہنچا ہوں تو بخاری صاحب فی البدیہہ صدارتی خطبہ ارشاد فرمارہے تھے اور ذکر کچھ میرا ہی تھا کہ، "اس مشاعرے میں شرکت کے لئے شوکت تھانوی بھی آئے ہوئے ہیں جن سے میں یہ پوچھ پوچھ کر تھک چکا ہوں کہ آخر وہ کسی تھانے یا کس تھان سے تعلق رکھتے ہیں مگر یہ ان کا کوئی ایسا گہرا راز ہے وہ کسی طرح اسے کھولنا گوارا نہیں کرتے".... اس مشاعرے کے بعد دوسرے یاتیسرے دن بخاری صاحب نے اپنے گھر پر اپنے چند نیاز مندوں کو لنچ دیا۔ اس میں شرکت کے لئے جب میں پہنچعا تو بخاری صاحب محض ایک نکر پہنے باقی مہاتماگاندھی بنے دھوپ میں بیٹھے تھے۔ ان کو دیکھ کر دل کو ایک دھچکا سا پہنچا، ہڈیوں کا ایک نحیف ونزارڈھانچہ تھا۔ ان کے قلب کے دورے کی اطلاع پہلے ہی مل چکی تھی، آج ان کا یہ لاغر جسم دیکھ کر بے ساختہ دل سے ان کی صحت اور درازی عمر کی دعائیں نکلنے لگیں مگر بخاری صاحب نے اپنے لطائف وظرافت سے بہت جلد اس اضمحلال کو ختم کردیا۔ البتہ کھانے کی میز پر جب کھانا کھاچکنے کے بعد میں نے ایک ڈش سے جیلی اپنی پلیٹ میں نکالی ہے تو بخاری صاحب دوڑ پڑے، "یہ نہ لینا بھوکا مرجاؤں گا میں۔" معلوم ہوا کہ وہ صرف ناشپاتی کے ابلے ہوئے چند ٹکڑے اور یہ جیلی ہی کھاسکتےہیں۔ یہی ان کی غذا ہے اور یہی غذائیت سے بے نیاز غذا کھاکھا کر وہ جی رہے ہیں۔ کچھ نہ پوچھئے کہ کتنا ترس آیا ہے ان پر۔ کئی مرتبہ ارادہ ہوا کہ ان سے کہوں کہ اب آپ امریکہ نہ جائیں مگر میں ان پر وہ خطرہ ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا جو خود محسوس کررہا تھا۔ آخر پچھلے سال جب میں ریڈیو پاکستان سے سبکدوش ہو کر پھرصحافت میں آگیا تھا اور روزنامہ جنگ کی ادارت کے سلسلہ میں مستقلاً کراچی کا ہوگیا اور آخری مرتبہ بخاری صاحب سے ملاقات ہوئی تو میں نے ہمت کر کے ان سے کہہ ہی دیا کہ اب آپ کراچی سے نہ جائیں اور اس کا جواب بھی سن لیا کہ "اگر آپ پکے کاغذ پر یہ لکھ دیں کہ میں کراچی میں رہ کر نہ مروں گا تو میں امریکہ جانے کا ارادہ ملتوی کرنے کو تیارہوں۔" چنانچہ وہ پھر امریکہ گئے اور اب کبھی امریکہ سے واپس نہ آئیں گے۔ اب کراچی میں کوئی ان کا انتظار نہ کرے گا۔ اب کوئی ان سے اصرار نہ کرے گا کہ امریکہ نہ جائیے۔

* * *