*/?>
*/?>

Dahat Mey Boy Scout (دیہات میں بوائے اسکاؤٹ)

دیہات میں بوائے اسکاؤٹ

 
مکھیوں کا بادشاہ
ایک دن سقراط گاؤں کے اسکول میں آیا۔ سب لوگ اسے جانتے تو تھے ہی۔ جونہی بچے بچیوں نے اس کی صورت دیکھی، ان کے چہرے خوشی سے چمک اٹھے۔ پڑھنا لکھنا بھول گیا۔ اور سب کی نظریں دروازے پر گڑ گئیں۔ جہاں بڈھے میاں کھڑے بڑے غور سے بچوں کی صورتیں دیکھ رہے تھے۔
    سقراط نے کچھ کہے سنے بغیر کمرے کا ایک چکر لگایا۔ پھر اپنے آپ سے منہ ہی منہ میں باتیں کرنے لگا۔ ”نہ کسی کے کانوں میں مُرکیاں دیکھیں نہ ناک میں نتھ، نہ کسی کے چہرے پر میل، نہ کسی کی ناک بہہ رہی ہے، نہ ناخن بڑھے ہوئے ہیں (ایں، یہ کیا؟ اس بچی کے ناخن تو بڑھے ہوئے ہیں۔ کیسے افسوس کی بات ہے! لیکن نہیں یہ کوئی نئی لڑکی ہوگی) اور ہاں نہ کسی کا پیٹ بڑھا ہوا ہے، نہ چہرے پر زردی ہے، نہ آنکھیں خراب ہیں، نہ کپڑے میلے ہیں۔ سب کے چہروں پر خوشی اور مسکراہٹ ہے۔ معلوم ہوتا ہے اصلاح اور ترقی کے لئے جو ہم نے کوشش کی تھی وہ بے نتیجہ ثابت نہیں ہوئی“۔
    چوتھی جماعت کے ایک شوخ لڑکے نے کہا۔ ”بڑے میاں یہ ہم پر منتر پڑھ پڑھ کر کیا پھونک رہے ہو؟“۔
    سقراط یوں چونک اٹھا گویا وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہو۔ بولا ”سلام اے لوگو! ہاں میں ایک خواب دیکھ رہا تھا“۔
    ”تو بڑے میاں! اس میں حیرانی کی بات ہی کیا ہے۔ ابا جان کہتے ہیں کہ تم خواب دیکھنے کے عادی ہو۔ لیکن ہم تو خواب نہیں دیکھ رہے ہم تو سب جاگ رہے ہیں“۔
”تو پھر ضرور میرے خواب میں سے ایک خواب سچا ثابت ہوا ہے“۔
    ایک ننھے سے لڑکے نے کہا۔ ”واہ وا۔ لو اب سقراط میاں ہمیں ایک کہانی سنائیں گے“۔
    سقراط کے آنے سے ماسٹر صاحب کا چہرہ بھی اپنے شاگردوں کی طرح خوشی سے دمکنے لگا تھا۔ انہوں نے پوچھا ”کہئے آپ کو کون سا خواب سچا ثابت ہوا؟“۔
”میں چھوٹے لڑکوں اور لڑکیوں کا ایک ایسا اسکول دیکھ رہا ہوں جس میں گندگی نام کو بھی نہیں، جہاں نہ کوئی بچہ بیمار ہے، نہ کسی نے سونے چاندی کے زیور پہن رکھے ہیں۔ یہی خواب میرا سچا ثابت ہوا ہے“۔
    ماسٹر صاحب نے کہا۔ ”یہ تو کچھ بھی بات ہیں۔ مہینوں سے ہمارے اسکول کی یہی حالت ہے کبھی کبھی کوئی نیا بچہ اسکول میں داخل ہوتا ہے تو ہمیں تھوڑی سی تکلیف ہوتی ہے لیکن ہم جلدی ہی اسے بھی راہ پر لے آتے ہیں“۔
    عین اس موقع پر ایک عورت داخل ہوئی۔ وہ چپ چاپ اور شمائی ہوئی تھی لیکن تھی چست چالاک اور اکثر یہاں آیا کرتی تھی اس کے ہاتھ میں ایک کتاب او رکچھ کاغذ تھے۔ اسے دیکھ کر سب لڑکے اور لڑکیاں اٹھ کھڑے ہوئے اور جہگیں بدلنے لگے تھوڑی دیر میں سب لڑکے ایک طرف ہوگئے اور سب لڑکیاں دوسری طرف۔ تب اس عورت نے لڑکیوں کو سلائی کا ایک سبق پڑھانا شروع کر دیا۔ سقراط نے کمرے سے نکل جانا چاہا۔ مگر لڑکے اسے کب چھوڑنے والے تھے۔ سب کے سب چلا اٹھے۔ ہیں، ہیں بڑے میاں کہاں چل دیئے ٹھہرو تم ابھی نہیں جا سکتے۔ تم پہروں بیٹھے بڑی عمر کے لوگوں سے باتیں کرتے رہتے ہو۔ کیا ہم نے کچھ قصور کیا ہے؟
    سقراط نے کہا۔ ”یہاں میری ضرورت بھی کیا ہے جو کچھ تمہیں بتا سکتا ہوں۔ تم اور تمہارے استاد اس سے بہت زیادہ جانتے ہیں۔ میں کسی ایسی جگہ جاؤں گا جہاں میری ضرورت ہو“۔
    استاد نے کہا۔ ”نہیں آپ نہیں جا سکتے۔ ہم نے سب کچھ آپ ہی سے سیکھا ہے۔ کچھ دیر یہاں ٹھہرئیے اور کوئی نئی بات بتائیے“۔
    سقراط نے کہا۔ ”میں کیا بتا سکتا ہوں؟ میں استاد تھوڑا ہی ہوں“
    اسی شوخ لڑکے نے پھر کہا ”اچھا تو کوئی کہانی ہی سنا دو“۔ کہانی کا نام سننا تھا کہ سب لڑکے چلا اٹھے۔ ”ٹھیک ہے کہانی بھئی کہانی“۔
    سقراط نے کہا۔ ”میں کہانیاں واہانیاں نہیں سنایا کرتا“۔
    اس پر کئی لڑکے بول اٹھے۔ ”ہم نہیں مانتے تم بچوں والے ہو۔ اپنے بچوں کو تو ضرور کہانیاں سناتے ہوں گے“۔
    سقراط نے کہا۔ ”یہ کام میرا نہیں۔ ان کی ماں انہیں کہانیاں سنایا کرتی ہے لیکن تمہاری ماؤں کو اپلے تھاپنے ہی سے فرصت نہیں ملتی“۔
    اس پر ننھی لڑکیوں نے ایک زبان ہو کر کہا۔ ”ہرگز نہیں۔ تمہیں ہماری ماؤں پر الزام لگاتے شرم نہیں آتی“۔ انہوں نے تو یہ کام برسوں سے چھوڑ رکھا ہے۔
    سقراط نے کہا۔ ”خوب خوب، مجھے بہت ہی افسوس ہے کہ میں نے تمہاری ماؤں پر یہ جھوٹا الزام لگایا ہے۔ مجھے امید ہے تم معاف کر دو گے“۔
    ”معاف تب کریں گے جب تم ہمیں کوئی کہانی سناؤ گے“۔
    ”اچھا تو سنو، ایک تھا مگرمچھ بہت ہی بڑا… “۔
    ”رہنے دو، ہم ایسی بے ہودہ کہانی نہیں سننا چاہتے۔ سنانی ہے تو کوئی کام کی کہانی سناؤ“۔
    ”دیکھو میاں سقراط! عقل کے ناخن لو اور ہمیں اچھی کہانی سناؤ، جس میں بادشاہ ہوں، شہزادوں شہزادیوں کا ذکر ہو، اگر تم چاہو تو ایسی کہانی سنا سکتے ہو“۔
    ” اچھا تو سنو، ایک تھا بادشاہ۔ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ، وہ ایک چھوٹی سی ریاست پر حکومت کرتا تھا۔ رعایا اس سے بہت خوش تھی۔ جہاں بادشاہ کا پسینہ گرتا وہاں رعایا اپنا خون بہانے کو تیار ہو جاتی“۔
    لڑکوں نے کہا۔ ”اب آئے نا راہ پر، ہاں تو پھر کیا ہوا؟“
    ”اس چھوٹی سی ریاست سے ملی ہوئی ایک بہت بڑی ریاست تھی جس پر ایک بہت ظالم بادشاہ حکمران تھا۔ اس بادشاہ کی بڑی آرزو یہ تھی کہ کسی طرح اس چھوٹی ریاست پر قبضہ جمالوں۔ اس چھوٹی ریاست کے بادشاہ کے ہاں کوئی بیٹا تو نہ تھا ہاں ایک خوبصورت بیٹی تھی۔ بڑے بادشاہ نے اپنے دل میں سوچا کہ اگر میرے بیٹے کی شادی اس بادشاہ کی بیٹی سے ہو جائے تو بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کی سلطنت پر میرا قبضہ ہو جائے گا۔
    لیکن چھوٹا بادشاہ اور اس کی رعایا اس کی نیت سے واقف تھے چنانچہ انہوں نے اس کے بیٹے کی شادی اپنی شہزادی کی شادی کرنے سے انکار کر دیا۔ اس پر بڑا بادشاہ بہت ہی جھنجھلایا اور اپنے وزیروں کو بلا کر ان سے صلح مشورہ کیا۔ وزیروں نے کہا۔ اس چھوٹے بادشاہ نے ہماری ہتک کی ہے۔ ہمیں اس پر چڑھائی کرکے اس کی ریاست پر قبضہ کر لینا چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے چڑھائی کی تیاریاں شروع کر دیں۔ جب چھوٹے بادشاہ کو اس کی خبر ہوئی تو وہ اپنے دل میں بہت ڈرا کیونکہ اس کی فوج بڑے بادشاہ کی فوج کے مقابلے میں ایک چوتھائی بھی نہ تھی۔
اس چھوٹے بادشاہ نے اپنے امیروں وزیروں کو بلایا اور کہا ”اگر ہم لڑے تو یہ بادشاہ ہماری سلطنت پر قبضہ کر لے گا۔ اور اگر میں نے اپنی بیٹی اس کے بیٹے سے سے بیا دی تب بھی وہ ہماری سلطنت پر قبضہ کرے گا ہم کریں تو کیا کریں؟“
اس کی رعایا نے جواب دیا۔ ”ہم لڑیں گے اور اپنی جانیں حضور پر فدا کر دیں گے“۔
    بادشاہ نے کہا۔ ”لیکن اس کا کچھ فائدہ نہ ہوگا غنیم کے مقابلے میں ہماری فوج بہت ہی تھوری ہے“۔
    اس پر سب چپ ہوگئے لیکن اس ریاست کے تمام باشندے اپنے بادشاہ سے بے حد محبت رکھتے تھے۔ چنانچہ ایک دیہات میں اور کیا شہروں میں، سب جگہ لوگوں کو یہی فکر تھی کہ ہم اپنے بادشاہ اور اپنے ملک کو غنیم کے ہاتھ سے کس طرح بچائیں یہاں تک کہ حیوانوں اور درندوں کو بھی اپنے بادشاہ کی امداد کی فکر ہوئی۔
جب بادشاہ نے دوسری مرتبہ اپنے امیروں وزیروں کو طلب کیا تو اس موقع پر شیر بھی آئے او رکہنے لگے۔ ہم دشمن کے گھوڑوں اور مویشیوں کو چیر پھاڑ ڈالیں گے“۔
بھیڑئیے اور گیڈر آئے اور کہنے لگے۔ ہم دشمن کے خیموں کے اردگرد گھومتے رہیں گے اور جو کوئی اکیلا وکیلا باہر نکلے گا اسے کھا جائیں گے۔
کووّں نے کہا یوں کام نہ چلے گا۔
    عین اس موقع پر ایک مکھی بادشاہ کی ناک پر آکر بیٹھی۔ بادشاہ نے ہاتھ سے اڑا دی مگر مکھی وہاں سے جانے کا نام نہ لیتی تھی۔ اس دفعہ وہ آکر بادشاہ کے کان پر بیٹھ گئی۔ بادشاہ جھنجھلا اٹھا اور کہنے لگا۔ اس مکھی نے تو ناک میں دم کر دیا۔ یہ مجھے کیوں تنگ کرتی ہے؟ میں پہلے ہی پریشان ہو رہا ہوں۔
بادشاہ کے کان میں بھنبھناہٹ کی آواز آئی جسے کوئی کہہ رہا ہو۔ میں حضور کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔
    بادشاہ چونک اٹھا اور کہا یہ کون بولا؟
    وزیر نے عرض کیا۔ حضور! کوئی بھی نہیں بولا۔
بادشاہ کے کان میں پھر وہی باریک آواز آئی۔ میں بولا تھا۔
اب تو بادشاہ اچھل پڑا اور آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اپنے ارد گرد دیکھنے لگا مگر اس کے آس پاس کوئی نہ تھا۔ ناچار پھر آکر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا مگر دل ہی دل میں سخت حیران ہوتا اور کہتا تھا کہ میری پریشانیوں اور اندیشوں نے کہیں مجھے دیوانہ تو نہیں بنا دیا۔
    اتنے پھر وہی آواز سنائی دی کہ میں حضور کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔
امیر وزیر سب دم ب خود کھڑے ہوگئے کسی کے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا۔ مگر اب بادشاہ سمجھ گیا کہ یہ ضرور کسی ایسی ہستی کی آواز ہے جو نظر نہیں آتی۔
بادشاہ نے پوچھا تم کون ہو؟
    ”میں مکھیوں کا بادشاہ ہوں اور آپ کی مدد کے لئے حاضر ہوا ہوں“۔
بادشاہ نے کسی قدر ناراضی سے کہا۔ جاؤ یونہی فضول وقت ضائع نہ کرو۔ بھلا تم میری کیا مدد کر سکتے ہو؟ تم مجھے پریشانیوں میں مبتلا دیکھ ک رمجھ سے ٹھٹھا کرنے آئے ہو۔
    ”نہیں۔ میں اس خیال سے ہرگز نہیں آیا ہوں۔ میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں۔ اور اگر آپ وعدہ کریں کہ میں جو کچھ مانگوں آپ دیں گے تو میں آپ کی مدد سے دریغ نہ کروں گا۔“
    بادشاہ نے ہنس کر کہا۔ ”جاؤ تمہیں اجازت ہے میری دشمن کو برباد کرنے میں اپنا سارا زور لگا دو لیکن مجھے یقین ہے کہ تم نہ تو میری کچھ مدد کر سکتے ہو نہ میرے دشمن کو نقصان پہنچا سکتے ہو“۔
    آس پاس جو لوگ بیٹھے تھے جب انہوں نے بادشاہ کو آپ ہی آپ باتیں کرتے اور ہنستے دیکھا تو انہیں بہت فکر ہوئی۔ وہ سمجھے کہ پریشانیوں کی وجہ سے بادشاہ کا سر پھر گیا ہ ے اور وہ دیوانوں کی طرح آپ ہی آپ ہنس رہا ہے۔ لیکن بادشاہ نے سارا وقعہ ان سے بیان کر دیا۔ اس بات کا تو کسی کو بھی یقین نہ تھا۔ مگر مکھیاں ہماری کچھ امداد کر سکتی ہیں۔ البتہ اس خیال پر انہیں بہت ہنسی آئی کہ مکھیاں ہماری سلطنت کی حفاظت کرنا چاہتی ہ یں۔ اس موقع پر ایک بڈھا جو سب سے پیچھے بیٹھا تھا اٹھ کھڑا ہوا اور مکھی کی شرطیں مان لینے کے خلاف دہائی دینے لگا۔ اس نے چلا کر کہا۔ بادشاہ سلامت! آپ نے مغرور اور ظالم ہمسائے سے بھی زیادہ خطرناک دشمن کے ہاتھ اپنی سلطنت بیچ ڈالی ہے۔
اس پر چاروں طرف سے آوازیں آنے لگیں۔ چپ رہ بڈھے، کیا بکتا ہے؟ اور بے چارے بڈھے کو زبردستی خاموش کرکے اپنی جگہ پر بٹھا دیا گیا اس کے تھوڑی دیر بعد مجلس ختم ہوگئی۔ اور سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو چل دیئے مگر اس عرصے میں بڈھا منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا رہا۔
    ایک لڑکے نے کہا۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو وہ بڈھا ضرور سقراط ہی ہوگا۔
    سقراط نے کہا اگر تم یوں میری باٹ ٹوکو گے تو میں باقی کہانی تمہیں نہ سناؤں گا۔
    ایک ننھی سی لڑکی نے کا۔ یہ تو تم نے بتایا ہی نہیں کہ اس خوب صورت شہزادی کا کیا حال ہوا؟
    سقراط نے چپکے سے اسکول سے باہر نکلتے ہوئے کہا۔ یہ پھرکبھی بتاؤں گا آج صبح میں نے پہلے ہی تمہارا بہت سا وقت ضائع کر دیا۔
    کچھ دنوں کے بعد سقراط اپنی کہانی کا باقی حصہ سنانے پھر اسکول میں آیا۔ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے وہ اسکول کے احاطے میں ادھر ادھر اور نیچے بڑے غور سے دیکھتا رہا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی کوئی چیز کھو گئی ہے لیکن تھوڑی دیر بعد وہ اسکول کے کمرے میں داخل ہوگیا۔
    لڑکوں نے پوچھا۔ ”احاطے میں تمہاری جو چیز کھو گئی تھی وہ ملی یا نہیں؟
    سقراط نے جواہ دیا۔ ”نہیں“۔
    ایک لڑکے نے کہا ”مجھے یہ سن کر بہت افسوس ہوا۔ لیکن یہ تو بتاؤ تمہاری کیا چیز گم ہوئی ہے؟“
    ”میری کوئی چیز گم نہیں ہوئی اور جو چیز میں تلاش کر رہا تھا وہ مجھے نہیں ملی اور مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ وہ نہیں ملی“۔
    کئی لڑکوں نے زچ ہو کر پوچھا۔ ”تمہاری کوئی یز گم بھی نہیں ہوئی ہوئی اور تم دیر تک اسے ادھر ادھر تلاش بھی کرتے رہے اور جب وہ تمہیں نہیں ملی تو تمہیں خوشی بھی ہوئی یہ تو پہلی ہے پہلی“۔
    ”اچھا اگر تم اسے پہلی کہتے ہو تو پہلی ہی سہی“۔
    ماسٹر صاحب نے کہا۔ ”مجھے معلوم ہے کہ آپ کو کس چیز کی تلاش تھی۔ آپ کوڑا کرکٹ تلاش کر رہے تھے لیکن وہ اب آپ کو یہاں نہیں مل سکتا“۔
    سقراط نے کہا ”بجا فرمایا آپ نے اور اس کے لئے میں آپ کو دلی مبارکباد دیتا ہوں۔ گرد کا ایک ذرّہ بھی تو احاطہ کے آس پاس کہیں نظر نہیں آیا۔ تمام گندگی اور کوڑا کرٹ اسکول کے گڑھے میں پھینکا جاتا ہے۔ یقین جانو مجھے یہ معلوم کرکے بہت خوشی حاصل ہوئی۔
    اس کے بعد سقراط چھوٹے لڑکے اور لڑکیوں کو مخاطب کرکے بولا۔ ”مجھے امید ہے کہ جب تم بڑے ہو جاؤ گے اور اسکول چھوڑ دو گے تو اپنی ان تمام اچھی باتوں کو کبھی نہ بھول گے“۔
    استاد نے کہا۔ ”اس کی طرف سے آپ بے فکر رہئے اب صفائی ان کی فطرت کا جزو بن گئی ہے اور غلاظت سے انہیں دلی نفرت ہے۔ او ریہ نفرت ان کے دل سے کبھی نہیں نکل سکتی۔ سبق پڑھنے سے پہلے ہر روز اپنے اسکول کی صفائی کرتے ہیں اور مجھے پورا یقین ہے کہ اگر یہ جگہ کوڑے کرکٹ سے اَٹی رہے تو اس کے خیال سے بھی انہیں یہاں بیٹھنا دوبھر ہو جائے“۔
    یہ سن کر سقراط کے منہ سے بے اختیار ”مرحبا“ نکل گیا۔
    اب کئی لڑکوں نے پوچھا ”ہاں بڑے میاں! اب وہ کہانی تو سناؤ، ہم جانتے ہیں کہ تم باٹ ٹالنے کی کوشش کر رہے ہو!“
    سقراط نے کہا۔ لو بھئی سنائے دیتا ہوں۔ اچھا تو کہاں چھوڑی تھی کہانی؟ ہاں ہاں یاد آگیا۔ خوب صورت شہزادی باغ میں بیٹھی جراب بن رہی تھی۔
    ”نہیں یہاں تو نہیں چھوڑی تھی“۔
    تو پھر یہاں چھوڑی ہوگی کہ ”بہادر نوجوان شہزادہ گھوڑے پر سوار ہوگیا اور نیام سے تلوار نکال لی“۔
    ”نہیں، یہاں بھی نہیں چھوڑی۔ سقراط تم جان بوجھ کا انجان بنے جاتے ہو۔ خیر ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں تم نے کہانی وہاں چھوڑی تھی جہاں مکھیوں کے بادشاہ نے چھوٹی سلطنت کو بچانے کا وعدہ کیا تھا“۔
    ”ہاں ہاں۔ یہیں چھوڑی تھی۔ لو صاحب! یہاں سے رخصت ہو کر مکھیوں کا بادشاہ بھن بھن کرتا ہوا سیدھا بڑے بادشاہ کی سلطنت کی طرف روانہ ہوگیا جس وقت وہ وہاں پہنچا تو وہ بڑا بادشاہ چڑھائی کے لئے اپنی فوجوں کو تیار کر رہا تھا۔ اس نے دل میں سوچا کہ اپنی راجدہانی میں ایک بڑی شان دار جشن منانا چاہئے جس میں ہمارے تمام نوجوان شامل ہوں۔ اور دنگل میں سب اپنے اپنے جوہر دکھائیں اور اس طرح ان میں سے تمام بہادروں اور سورماؤں کو چن کر اپنی ایک زبردست فوج تیار کر لوں جو میرے گستاخ ہمسائے کو تباہ وبرباد کر ڈالے۔
    چنانچہ بادشاہ کے حکم سے ایک شان دار جشن منایا گیا اور ملک کے کونے کونے سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ آکر اس م یں شامل ہوئے“ جس جگہ نظر پڑتی تھی لوگوں کے خیمے ہی خیمے دکھائی دیتے تھے ان لوگوں کا جب جی چاہتا بادشاہ کے خزانے سے کھاتے پیتے اور رنگ رلیاں مناتے انہوں نے بادشاہ کی راجدہانی کی تمام زمین او رپانی کو دنگہ اور نجس بنا دیا نتیجہ یہ ہوا یکایک وبا پھیل گئی اور دھڑا دھڑ موتیں ہونے لگیں۔ بہترے جتن کئے مگر مرنے والوں کی تعدا روز بروز بڑھتی ہی جاتی تھی۔ ناچار بادشاہ نے سب کو حکم دیا کہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔ میرے افسر تم سب کے پاس خود آئیں گے اور تم میں سے بہادروں کو چن چن کر فوج میں بھرتی کر لیں گے یہ سن کر سب لوگ اپنے اپنے دیہات اور شہروں کو لوٹ گئے اور اپنے ساتھ بیماری کو بھی لیتے گئے ور اس طرح بڑے بادشاہ کی سلطنت میں وبا پھیل گئی اور چند ہی دنوں میں ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے تب بادشاہ نے اپنی سلطنت کے بڈھوں، امیروں، وزیروں کو بلایا۔ انہوں نے کہا ”بادشاہ سلامت! ہمارے تمام نوجوان مر چکے ہیں ہمارے گھر ویران ہو گئے ہیں ہم اب جنگ نہیں کر سکتے۔ آپ نے بہادر سورماؤں کی فوج تیار کرنے کے لئے جو جشن کیا تھا اس نے نہ صرف اس فوج ہی کو برباد کر ڈالا بلکہ ہمارے ملک میں بھی تباہی پھیلا دی۔
    بادشاہ نے کہا۔ افسوس! اب کئی سال تک ہم جنگ نہیں کرسکتے۔ اور سب بڈھے اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
    اس خوفناک وبا کا حال چھوٹے بادشاہ کے کانوں تک بھی پہنچا اور اس کے امیر وزیر ایسے طاقت ور دشمن کے حملے سے بچ جانے پر اسے مبارکباد دینے آئے جس وقت وہ بادشاہ کے آس پاس بیٹھے تو مکھیوں کا بادشاہ بھی بھن بھن کرتا ہوا ان کے پاس آیا اور ننھی ننھی سی ترئی بجا کر اتنی اونچی آواز میں جو سب کے کانوں تک پہنچ جائے چلا کر کہنے لگا۔ بادشاہ سلامت لائیے میرا انعام! میں نے اپنا کام انجام دے دیا ہے۔
    اس کی یہ بات سن کر سب لوگ ہنسنے لگے۔ اے مکھیوں کے ننھے بادشاہ! ذرا ہمیں بھی معلوم ہو تم نے کیا کام سرانجام دیا ہے؟ ہمارے دشمن اگر مرے ہیں تو وبا سے مرے ہیں۔ اس میں تیری کوشش کو کیا دخل ہے؟ تو جھوٹا اور دغا باز ہے۔
    مکھیوں کے بادشاہ نے کہا میں ہرگز دغا باز نہیں۔
    بادشاہ نے کہا ثابت کرو۔
    مکھیوں کے بادشاہ نے کہا۔ میں ثابت کرتا ہوں۔ سنئے۔ جب اس ملک کے دیہات اور شہروں سے نوجوان بادشاہ کی راجدھانی کی طرف روانہ ہوئے تو ہم بھی ان کی پیٹھوں، ان کے اسباب اور ان کے ٹٹوؤں اور بیلوں پر بیٹھ کر ان کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے وہاں ہر جگہ اپنے خیمے گاڑ دیئے او ربڑی بے احتیاطی سے رہنے سہنے لگے۔ وہ اور ان کے بیل اور گھوڑے جہاں جی چاہتا پاخانہ اور لید کر دیتے۔ اور کوئی شخص زمین صاف نہ کرتا۔ اتفاق سے ان میں ایک شخص ایک ایسی جگہ سے آیا تھا جہاں ہیضہ پھیلا ہوا تھا وہ اپنے ساتھ اس بیماری کے جراثیم بھی لیتا آیا تھا ہم سب یعنی میں اور میرا لشکر پہلے تو گندگی اور کوڑے کرکٹ پر بیٹھتے ااس کے بعد ان لوگوں کے کھانوں اور مٹھائیوں اور ان کے ہونٹوں اور آنکھوں پر جا بیٹھتے ہم گندی جگہوں پر بیٹھنے کے بعد نہ تو اپنے پاؤں صاف کرتے اور نہ جوتے اتارتے پہلے تو ہم نے دستوں کی بیماری پھیلائی پھر جب ہم ن ے سنا کہ کوئی شخص اپنے ساتھ ہیضہ کے جراثیم یہاں لایا ہے تو ہم نے ہیضہ بھی پھیلا دیا۔ یہ کہہ کر مکھیوں کے بادشاہ نے پھر اپنی ترئی بجائی اور چلا کر کہا اے عادل اور انصاف پسند بادشاہ! اب میں اپنا اعنام مانگتا ہوں۔
    یہ سن کر سب لوگ خوف سے تھرا اٹھے اور بادشاہ نے کہا بے شک تم انعام کے حق دار ہو میں اپنے قول کے مطابق تمہیں انعام دوں گا۔ اور تمہیں میری مٹھائیوں پر بیٹھنے اور جہاں جی چاہے اڑنے کی اجازت ہوگی۔
    اب وہی بڈھا جس نے بادشاہ کے مکھی کی شرطیں مان لینے کی مخالفت کی تھی اپنی جگہ سے اٹھا بولا۔ بادشاہ سلامت! میری التجا ہے کہ آپ نے مکھیوں کے بادشاہ سے جو اقرار کیا ہے اس سے ایک قدم بھی آگے نہ بڑھئے۔
بادشاہ نے پوچھا بڑے میاں یہ کیوں؟
    اس کے جواب میں وہ بڈھا جو بلاشبہ سقراط ہی تھا اور اس دن تم لڑکوں نے ٹھیک بوجھ لیا تھا کہنے لگا۔ جب آپ نے مکھیوں کے بادشاہ کے ساتھ اتحاد کیا تھا۔ تو آپ نے انسان کے سب سے خطرناک دشمن کو اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ بادشاہ سلامت آپ کو معلوم ہونا چاہئے ککہ آئے دن جو طرح طرح کی بیماریاں گھیرے رہتی ہیں، ان میں سے زیادہ یہی مکھیاں پھیلاتی ہیں۔
    بادشاہ نے پوچھا تو اب کیا کروں؟
    سقراط بولا۔ حضور آپ نے یہ وعدہ کیا تھا کہ مکھیوں کو آپ کی مٹھائیوں پر بیٹھنے کی اجازت ہوگی اور وہ جہاں چاہیں گی اڑ سکیں گی۔
    بادشاہ نے کہا ہاں اور اس قول کو نبھانا میرا فرض ہے۔
    سقراط بولا۔ تو اپنی قول کو نبھائیے لیکن خبردار رہئے کہ مکھیوں کا بادشاہ کہیں آپ کے دشمن کی سلطنت کی طرح آپ کی سلطنت کو بھی تباہ نہ کر ڈالے مکھیاں گندگی میں پرورش پاتی اور بچے دیتی ہیں اور آپ نے یہ تو وعدہ نہیں کیا کہ آپ ان کے لئے گندگی بھی مہیا کرتے رہیں گے۔
    بادشاہ نے کہا نہیں میں نے ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا ورنہ یہ اجازت دی ہے کہ وہ بادشاہ کے سوا کسی اور کے دستر خوان پر بھی بیٹھ سکیں۔
    یہ سن کر ایک چھوٹے قد کا شخص جو ڈرپوک تھا۔ بول اٹھا۔ بادشاہ سلامت! خدا کے لئے اس طاقت ور دشمن کو ناراض نہ کیجئے۔ لیکن بادشاہ نے اس کی بات کی کچھ پروا نہ کی اور کہا۔ ہمیں اپنی جانوں کی حفاظت کرنی چاہئے ورنہ مکھیوں نے جس طرح ہماے ہمسایہ بادشاہ کی فوج میں وبا پھیلا کر اسے تباہ کر ڈالا ہے اسی طرح میں بھی تباہ کر ڈالیں گی۔
    مکھیوں کے بادشاہ نے اپنا ننھا سا پاؤں زمین پر مارا اور بڑی بے صبری سے پوچھا۔     اے بادشاہ! مجھے انعام کب ملے گا؟
    بادشاہ نے جواب دیا اسی وقت لیکن میں نے تم سے جو وعدہ کیا تھا اس سے ذرا بھی تم قدم نہ بڑھا سکو گے۔
    یہ سن کر مکھیوں کا بادشاہ اڑ گیا۔ اور تھوڑی دیر میں اپنا لاؤلشکر لے آیا۔ تمام مکھیاں بادشاہ کی مٹھائیوں کے دستر خوان پر جا کر بیٹھیں جہاں چاہتی اڑتی پھرتیں نتیجہ یہ ہوا کہ بادشاہ تھوڑی ہی دنوں میں بیمار پڑ کر مر گیا لیکن چونکہ اور کسی نے مجھیوں کو اپنے کھانے پینے کی چیزوں کے قریب نہ پھٹکنے دیا تھا اس لئے اور کسی کو کچھ ضرو نہ پہنچا وہ اپنی کھانے پینے کی چیزیں یا تو باریک کپڑوں کے نیچے ڈھک کر یا الماریوں، برتوں اور بکسوں میں بند کر کے رکھتے اس طرح مکھیوں کا بس نہ چلتا اور وہ وبا نہ پھیلا سکتیں اور چونکہ مکھیاں گندگی میں انڈے دیا کرتی ہیں انہوں نے غلاظت اور کوڑے کرکٹ کے لئے الگ گڑھے کھود لئے وہ ان تمام کوڑا کرکٹ پھینک دیتے اور کس جگہ گندگی وغیرہ کا نام تک نہ رہنے دیتے۔ وہ اپنے گھروں اور دیہات کو ایسا صاف ستھرا رکھتے کہ مکھیوں کو انڈے دینے کے لئے کوئی جگہ ہی نہ ملتی۔ پہلے تو وہ لوگ جہاں جی چاہا پاخانہ کر لیتے تھے لیکن اب انہوں نے اس رسم کو بالکل بند کر دیا اور یہ قانون بنا دیا کہ کوئی شخص بھی سوائے گڑہوں اور گھروں کے پاخانوں کے جو انہوں نے خاص طور پر اس کام کے لئے بنوائے تھے اور کس جگہ رفع حاجت نہ کر پائے اور وہ اپنے اصطبلوں اور مویشی خانوں کو بھی بہت صاف ستھرا رکھتے اور لید اور گوبر وغیرہ گڑھوں میں پھنکوا دیتے وہ ان گڑھوں کو پانی سے تر کرتے رہتے تاکہ وہ گرم رہیں اور ان میں خمیر اٹھتا رہے۔ اور مکھیاں وہاں بھی انڈے نہ دینے پائیں۔ جب گڑھے بھر جاتے اور تمام کوڑا کرکٹ اور گندگی مٹی میں گھل کر نہایت عمدہ کھاد بن جاتی تو وہ اسے اپنے کھیتوں میں استعمال کرتے اب انہیں مکھیوں کا کچھ اندیشہ نہ رہا۔ انہیں نہ صرف بیماریوں اور مکھیوں ہی سے چھٹکارا مل گیا بلکہ ان کی کھتیاں بھی پہلے سے زیدہ ہری بھری ہوگئیں۔ اور ان کی جسمانی صحت بھی پہلے کی نسبت اچھی ہوگئی۔
    اس طرح انہوں نے اپنی سلطنت کو نہ صرف اپنے ظالم ہمسایہ بادشاہی ہی سے بچا لیا بلکہ اس سے بھی زیادہ خطرناک دشمن یعنی مکھی کے شر سے بھی محفوظ ہوگئے۔ اس کے ساتھ ہی چھوٹی سلطنت کی رعایا نے بڑی سلطنت کی رعایا سے دوستی بھی پیدا کر لی۔ اور دونوں نے آپس میں عہد کر لیا کہ ہم بجائے ایک دوسرے سے لڑنے کے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر گندگی، مکھی اور وبا کے خلاف جنگ کرتے رہیں گے اور چھوٹی سلطنت کی شہزادی نے بڑی سلطنت کے شہزادے سے شادی کر لی اور وہ اور ان کی رعایا ہمیشہ ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے رہے۔
    سقراط نے ننھی لڑکی سے کہا کیوں ننھی اب تو تم خوش ہو؟ اب تو تمہاری شہزادی پھر خوش رہنے سہنے لگی ہے۔
    پھر وہ بڑی عمر کے لڑکوں کو مخاطب کرکے بولا۔ لڑکو! اب جب سالانہ جلسہ ہو تو تم اس کہانی کو جو میں نے تمہیں سنائی ہے ناٹک تیار کرکے دکھانا۔ اس میں شیر بھی لانا اور بھیڑئیے وغیرہ بھی۔ اور مکھیوں کے بادشاہ کے لئے کوئی اچھا سا لباس تیار کرنا اور اس کے شانوں پر پَر بھی لگانا جب تمہارے والدین اور دوست اس ناٹک کو دیکھیں گے تو ان کی سمجھ میں آجائے گا کہ تم ن ہانے دھونے اور صفافئی کا اس قدر خیال کیوں رکھتے ہو اور تمہیں اپنے اسکول اور احاطے اور دیہات کو صاف ستھرا رکھنے کی اتنی فکر کیوں ہوتی ہے؟

(دیہات میں بوائے اسکاؤٹ کا کام)
    از ایف۔ ایل۔ برین۔، ایم ۔ سی، آئی، سی، ایس
مترجم پطرس

* * *