*/?>
*/?>

Dhehli Ki Sahir (دھلی کی سیر)

دھلی کی سیر
ایک چھوٹا سا لڑکا الہ آباد کا
اپنے گھر سے چلا گیا
واں جو پہنچا تو دیکھا
 
کہ اس جا کے لڑکے
اور اس جا کے گنّے
اور اس جاکی برفی
اور اس جا کی بلی
اور اس جاکر چڑیاں
اور اس جا کے چالیس
 
ہیں ویسے ہی ننّھے‌
ہیں ویسے ہی لمبے
ہے ویسی ہی میٹھی‌
ہے ویسی ہی موٹی
ہیں ویسی ہی چھوٹی
ہیں بیس اور بیس
 
اس نے یہ کچھ جو دیکھا
تو حیراں ہوا اور تکتا رہا
اور تکتا رہا اور حیراں ہوا
 

(پھول)

* * *