*/?>
*/?>

Mera Shuhra Afaq Ustaad (میرا شہرہ آفاق استاد)

میرا شہرہ آفاق استاد

(ڈاکٹر حمید الدین)

   میں سمجھتا ہوں کہ مجھے سینکڑوں نہیں تو بیسیوں ایسے احباب سے معذرت طلب کرنی چاہئے جو مجھ سے کہیں زیادہ پروفیسر بخاری سے واقفیت کا دم بھرتے ہیں۔ میں پروفیسر بخاری کی روح سے بھی معذرت خواہ ہوں کیونکہ ہو سکتا ہے میں اپنے بیان میں بعض ایسی باتیں کہہ جاؤں جو موصوف کی شخصیت کے بارے میں سوفیصدی درست نہ ہوں۔
   جب مجھے پروفیسر بخاری کا خیال آتا ہے۔ تو میرا ذہن دوسری دہائی کے آخری برسوں اور تیسری دہائی کے آغاز کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ اُن دنوں میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بی اے کا طالب علم تھا اور وہ کیمبرج سے تازہ تازہ واپس آئے تھے۔ جہاں انہوں نے انگریزی ادب میں وہ امتیاز حاصل کیا تھا جو اُن سے پہلے کسی ہندوستانی کو نصیب نہ ہوا تھا۔ کیمبرج میں کئی ہندوستانیوں نے داخلہ لیا مگر دو تین کے سوا کسی کو ان جیسی کامیابی حاصل نہ ہوئی۔
   دراز قد، خوبرو، عالمانہ پیشانی، تیز دلکش آنکھیں رکھنے کے باعث پروفیسر بخاری دور کھڑےبھی دیگر پروفیسروں سے الگ پہچانے جاتے اور ممتاز نظر آتے تھے۔ پروفیسروں کی اس جماعت میں دبلے پتلے، لمبے تڑنگے مونچھوں والے پروفیسر لینگ ہارن، مدن گوپال سنگھ جیسے محنتی اور پروفیسر فرتھ جیسے سراپا حرکت لوگ شامل تھے۔ اس سے پہلے پروفیسر مرزا سعید شاید کسی ڈگری کالج کے پرنسپل ہو کر باہر جاچکے تھے اور ایک دو سال بعد پروفیسر ڈکنسن بھی علی گڑھ سے یہاں آگئے تھے۔
   مجھے پروفیسر بخاری سے پہلی بار واسطہ اس وقت پڑا۔ جب میں تیسرے یا چوتھے سال میں تھا۔ وہ ہمیں مختصر افسانہ پڑھاتے تھے۔ ہماری جماعت اُس کمرے میں بیٹھتی تھی۔ جسے توڑ کر آج کل پرنسپل اور کالج کے دفاتر میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ یہ جماعت صبح کے وقت ہوتی تھی۔ وہ ہمیں سٹیونسن کی مارخائیم پڑھا رہے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ان کے پہلے لیکچر کے بعد ہمارے تاثرات کچھ زیادہ اچھے نہ تھے۔ ان کے پڑھانے کا طریقہ خاص طور پر مختصر افسانہ اس طریقے سے مختلف تھا جس کے ہم عادی تھے۔ انہوں نے دو تین لیکچر دیئے جس کا مطلب یہ تھا کہ پورا ایک ہفتہ زیادہ تر یہ بتانے پر صرف کیا کہ انہوں نے لندن میں ایک عام آدمی کو کس حال میں دیکھا۔ انہوں نے مصنف اور اس کی کہانی کے متعلق ہمیں کچھ نہیں بتایا۔ اگرچہ بعد میں ایسا ہو اکہ لندن کے عام آدمی کے بارے میں انہوں نے جو کچھ بتایا تھا۔ ان کا ڈانڈا مارخائیم سے خود بخود مل گیا اور ہم اس فیصلے پر پہنچے کہ پروفیسر بخاری دوسروں سے خواہ کتنے ہی مختلف کیوں نہ ہوں خواہ مخواہ ہمارا وقت ضائع کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اگر کوئی ان سے سوال پوچھتا یا ان پر نقطہ چینی کرتا تو وہ اس سے زیادہ بڑھ چڑھ کر باتیں کر سکتے تھے۔
   اس کے بعد پروفیسر بخاری کی ذات کا جائزہ ہمارا موضوع بن گیا۔ ہم سیدھے سادے انداز میں ان کے قیامِ لندن کے ظاہری اثرات معلوم کرنا چاہتے تھے مگر مجھے اعتراف کرنا چاہئے کہ ہم ان کی ظاہری دلچسپیوں سے ان کا سراغ لگانے میں قطعاً ناکام رہے۔ ان کے جیکٹ کے سخت کالر کے سوا جو ایک خوش پوش آدمی کا نشان ہے، اُن میں کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے دیکھ کر آدمی کہہ سکے کہ وہ دوسروں کو لاشعوری طور پر مرعوب کرنے کے لئے استعمال کی گئی ہے۔ اُن سردیوں میں وہ روزانہ ہلکے بادامی رنگ کے ٹریڈ کی جیکٹ اور شاید ویسی ہی فلالین کی سلیٹی رنگ کی پتلون پہنتے رہے۔ ان میں شک نہیں کہ ان کا کوٹ پتلون نہایت صفائی سے استری کیا ہوا ہوتا تھا۔ تاہم ٹائی کے انتخاب میں مجھے ان میں کبھی نمایاں نازک مزاجی کا ثبوت نہ ملا۔ دھاری دار کپڑے پہننے کی کمزوری تو ان میں شروع سے آخر تک پائی گئی۔ وہ خانے دار قمیض کا استعمال اسی قسم کے ہلکے لیکن نمایاں چیک کوٹ کے ساتھ ہرگز معیوب نہ سمجھتے تھے۔ البتہ انہیں بوٹائی لگانے کا شوق ہمیشہ رہا۔
   اس طرح قریب سے جانچ پڑتال کرنے کے باوجود ہم ان کی وضع قطع کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جان سکتے۔ ہم جہاں تھے وہیں رہے اور ابھی تک یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اُن میں ایسی کون سی بات تھی جس کی وجہ سے وہ واحد پروفیسر تھے جنہیں تنگ نہیں کیا جاتا تھا۔ گورنمنٹ کالج میں کوئی استاد ایسا نہ تھا جو دوسرے سے پانچویں سال کے طلبہ کی شرارتوں کا تختہٴ مشق نہ رہا ہو۔ پانی کی طرح رواں اور غلطی سے پاک انگریزی شاذونادر ہی نوواردوں کے کام آتی تھی۔ دراصل ایسا استاد جتنا تیز بولتا اور جتنا زیادہ رعب جمانے کی کوشش کرتا۔ اتنا ہی زیادہ وہ بےنقاب ہوجاتا لیکن پروفیسر بخاری ایسی تمام شرارتوں سے بچے رہے۔
   جذبہٴ خلوص ہی ایک ایسی خوبی ہے جس کی بنا پر تمام دنیا کے شاگرد اپنے استادوں کی قدر کرتے ہیں۔ پروفیسر بخاری میں ایک استاد کی حیثیت سے یہ وصف نمایاں تھا۔ ان کے شاگرد شروع ہی سے جان گئے تھے کہ پروفیسر بخاری کی اہمیت ایک استاد سے اگر زیادہ نہیں تو کسی صورت کم بھی نہیں۔
   پروفیسر بخاری کے نزدیک ادب پڑھانے کا مطلب صرف یہی نہیں تھا کہ مشکل الفاظ کے معنی بتا دیئے یا محاوروں کی تشریح کر دی یا کسی شاہکار کی ہیئت اور ساخت کا تجزیہ کر دیا یا کسی عظیم مصنف کے فن ٹیکنیک اور پُرکاری پر روشنی ڈال دی یہ سب کچھ کرنے کے علاوہ بہت کچھ اور بھی تھا۔ وہ اول تو اپنے آپ کو کسی شاہکار میں کھو دیتے تھے۔ پھر اپنی حقیقی زندگی اس کے سانچے میں ڈھال کر ایسا بنا دیتے تھے کہ مغائرت کا احساس باقی نہ رہتا تھا۔ منشاء یہ تھا کہ طلبہ اس عمل کو اپنی شخصیت کی ہر سطح میں دہرائیں۔ اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں اس کام کے پہلے حصے میں کامیابی حاصل کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں۔ البتہ اس کا دوسرا حصہ خاصہ مشکل ہے۔ کیونکہ صرف وہی معلم اس خواب کو پورا ہوتے دیکھ سکتا ہے جو ادب کو ایک وقتی پیشے یا مشغلے کے طور پر نہیں بلکہ زندگی کی شاہراہ کے طور پر اختیار کرتا ہے۔
   بہت جلد پروفیسر بخاری کی جماعتوں کی شکل کچھ سے کچھ ہوگئی۔ ان کا تربیتی کام ایک استاد کے بےکیف لیکچروں اور طلبہ کے نوٹ لینے کا نام نہ تھا۔ ان میں گرما گرم بحثیں ہوتی تھیں۔ ہرطالب علم کسی نظم یا ڈرامے کے ٹکڑے کی ٹیکنک کے بارے میں اپنی رائے ظاہر کرتا تھا۔ یہ سوقیانہ ہے۔ یہ ارفع ہے، اس میں یہ خوبی ہے، یہ عیب ہے۔ پروفیسر بخاری خود بحث کا آغاز کرتے بلکہ اسے چلانے کے لئے خود بھی حصہ لیتے، عموماً ایسا ہوتا کہ وہ زید کے حق میں دلیلیں دے رہے ہوتے لیکن بہت جلد معلوم ہو جاتا کہ وہ کلیتہً اس کے حق میں نہیں۔ بلکہ جزوی طور پر اس سے متفق ہیں۔ ایسی بحثوں کا ایک پہلو نہایت قابل تعریف ہوتا۔ وہ یہ کہ کوئی شخص محض منطق کے زور پر انہیں قائل نہیں کرسکتا تھا۔ اپنی بات منوانے کے لئے اسے لازمی طور پر مصنف کی تخلیق ہی کے دامن میں پناہ ڈھونڈ نی پڑتی تھی۔ اس کی دلیل بظاہر کتنی ہی وزنی کیوں نہ ہو اس وقت تک قابل قبول نہ سمجھی جاتی جب تک وہ یہ ثابت نہ کرے کہ اس نے اصلی کتاب کو عقلمندی سے سمجھ سوچ کر پڑھا ہے۔ اس طرح پروفیسر بخاری کی نظر میں مقبول ہونے کے لئے ایک طالب علم کو اپنے میدان مطالعہ میں چار چول چوکس رہنا پڑتا تھا۔
   اپنے طلبہ میں ادب کا ذوق پیدا کرنے کا جذبہ پروفیسر بخاری میں عشق کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ اس سے نہ وہ بوجھ محسوس کرتے تھے نہ ان کے اپنے مشاغل میں کمی واقع ہوتی تھی۔ بلکہ یہ شوق بڑھتا ہی جاتا تھاان تمام شاخوں کے مطالعہ کے لئے بھی مہمیز کا کام دیتا تھا جن کے سمجھے بغیر مطالعہ میں جان نہیں پڑ سکتی۔ تھیٹر، مشاعرہ، مذاکرہ اور کالج میگزین سے ان کا دلی لگاؤ بھی اس بات کا ظاہری ثبوت ہے کہ انہیں ادب اور زبان سے گہری شیفتگی تھی۔ ان کے دوست جانتے ہیں کہ زبان کی باریکیوں اور اسلوب بیان کے حسن سے انہیں انتہائی رغبت تھی۔ یہاں لسانی مہارت ان کی شخصیت کے پھلنے پھولنے میں کام آئی۔ اور اہم ترین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ زبان کو اس سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی جاتی کہ وہ چند منجمد علامتوں کا ایک نظام ہے۔ مگر ان کی نظر میں یہ ایک زندہ تحریک تھی وہ اسے ایک ایسا جال تصور کرتے تھے جس کے ذریعے ادب کے شیدائی زندگی کے بےپایاں سمندر سے الفاظ اور محاوروں کی جھلملاتی مچھلیاں شکار کرسکیں۔
   وہ زندہ اور خوبصورت الفاظ سے محبت کرتے تھے اور یہ قدرت کا ایک ایسا عطیہ تھا جس کی بدولت وہ ہر لمحہ اور ہر حال میں پیچیدگیوں کامقابلہ کرتے تھے۔ اسی میں ان کی بذلہ سنجی، مزاح، طنز اور بات چیت کے جادو کا راز مضمر ہے۔ پروفیسر بخاری ان چند خیال انگیز خوش بیانوں میں سے ایک تھے جن سے مجھے ملنے کا اتفاق ہوا ہے۔ اسی سحر آفرینی کے باعث ان کا حلقہٴ احباب وسیع ہوتا گیا اور اب بھی مداحین کا دائرہ بڑھتا رہے گا۔ جو ان کے نزدیک آتا ہر قیمت پر چند لمحے ان کے ساتھ گزارنے پر بہ خوشی آمادہ ہو جاتا۔ وہ ایک ایسے دانشور تھے  جن کی طنز وظرافت سے ان کے ملاقاتی اپنی علمی استعداد اور فہم وفراست کے مطابق خط و فرحت حاصل کرتے تھے۔ کند ذہن آدمی ہنسی کی بات سے کبھی لطف اندوز نہیں ہو سکتا، ان کا مزاح ہمدردانہ ہوتا تھا۔ وہ دوسروں کے ساتھ قہقہے نہیں لگاتے تھے۔ ان کا تمسخر نہیں اڑاتے تھے۔ بلکہ ان کی کلفت وپریشانی ہنسی میں اُڑا دیتے تھے۔ ان کا طنز ان کی ادراکی قوت کی پیداوار ہوتی تھی۔ وہ ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی کی کمزوری بھی اسی طرح بےنقاب کرتے تھے۔ جس طرح بڑے سے بڑے اکڑباز اور طرح دار کی زندگی کا سارا تانا بانا ان کے لئے میدان کارزار تھا اور ان کی دیانت ان کی شمشیر، وہ کسی کو نہ بخشتے تھے اور کسی سے یہ توقع نہ رکھتے تھے کہ انہیں معاف کرے۔
   پروفیسر بخاری نے جتنے سال گورنمنٹ کالج لاہور میں طلبہ کو پڑھانے میں صرف کئے، ان کا جائزہ لینے کے بعد آدمی کہہ سکتا ہے کہ اپنی قابلیتوں کو بروئے کار لانے اور شاگردوں میں وہی اوصاف اور رجحانات پیدا کرنے کے لئے کالج اور کلاس روم میں بے پناہ امکانات رکھنے کے باوجود ان کے لئے محدود جولاں گاہ تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ ان کے اردگرد ارباب فضل وہنر کافی تعداد میں موجود ہیں۔ انہیں صرف منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ کام اپنے ذمہ لیا۔ مجلس اردو اسی کی ایک شکل ہے۔
   یہ سوسائٹی کالج کے ذہین نوجوانوں اور پروفیسر بخاری کے زیادہ تجربہ کار احباب کے لئے قائم کی گئی تھی۔ ہر شخص جو طبع زاد افسانہ، ڈرامہ، تنقیدی مضمون یا نظم لکھ سکتا تھا، اس مجلس میں بار پاسکتا تھا۔ اسے خوش آمدید کہا جاتا تھا اور اسے اجازت ہوتی تھی کہ وہ اس شام کو پڑھی جانے والی ہر ادبی کاوش پر تنقید کرے خواہ وہ کتنی ہی کڑی کیوں نہ ہو۔ تنقید کا معیار اتنا بلند رکھا جاتا تھا کہ اس میں اردو فارسی اور عربی کے قدیم اصول تنقید کے علاوہ مغرب کا جدید انداز تبصرہ بھی شامل ہوتا تھا۔
   پروفیسر بخاری نے مجلس اردو کو بہت جلد ایک ایسی پُرکشش جماعت بنا دیا کہ ہر ہونہار نوجوان جو لاہور کی ادبی مجالس کی روح رواں تھا۔ یہ محسوس کرنے لگا کہ اسے مجلس اردو یا اس کی حریف بزم فروغ اردو میں سے کسی ایک میں شامل ہوئے بغیر چارہ نہیں۔ بزم فروغ اردو ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر جیسے مشہور شاعر اور فاضل کی نگرانی میں اپنی سرگرمیاں اسلامیہ کالج لاہور میں جاری کئے ہوئے تھی بالکل اسی طرح جس طرح پروفیسر بخاری گورنمنٹ کالج لاہور میں مجلس اردو چلا رہے تھے۔
   جن اصحاب کو معلوم ہے کہ بخاری اور تاثیر نے اپنے نوجوان ادیب دوستوں کے لئے ان مجالس کے ذریعے کیا کچھ کیا۔ وہ یہ کہنے میں کبھی دریغ نہ کریں گے کہ ان جماعتوں نے اور کچھ نہیں تو اتنا ضرور کیا کہ ہمارے عہد اور خطے کی ادبی تربیت کی تاریخ میں ان دونوں عظیم استادوں کا نام محفوظ کر دیا۔ جن پر ہمیشہ فخر کریں گے۔
   اور میں نے تو آرٹ اور ادب کے کئی پرستاروں کو ٹھنڈی آہیں بھر کر اپنی بدقسمتی کا ماتم کرتے دیکھا ہے کہ اس نے ہمیں ان دونوں سے کیوں محروم کر دیا۔ اگر آپ ان کی ایماندارانہ رائے پوچھیں تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ پروفیسر بخاری اول وآخر ادب اور آرٹ کی دنیا کے باسی تھے۔ وہ جتنی جلدی اس دنیا میں لوٹ آئیں اتنا ہی بہتر ہے۔وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے اساتذہ، ادیب، شاعر اور ناول نویس لاہور جیسے تمدنی صدر مقام میں دن رات ادب کی قابل ستائش خدمت کرنے کے باوجود پروفیسر بخاری کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ جن کی وفات سے پیدا شدہ خلاء کبھی پُر نہیں ہوگا۔ یہ مضمون ختم کرنے سے پہلے مجھے ایک معمولی لیکن اہم بات کا ذکر کرنے کی اجازت دیجئے۔ آپ شاید یہ خیال کرتے ہوں گے کہ انگریزی ادب کے استاد کی حیثیت سے پروفیسر بخاری کا کارنامہ صرف انگریزی تک محدود تھا لیکن حقیقت یہ نہیں۔ اردو اور فارسی ادب کے لئے بھی ان کا عشق اتنا ہی بڑھا ہوا تھا جتنا انگریزی ادب کے لئے۔اگر کسی صاحب کو انہیں نیویارک میں ملنے کا اتفاق ہوا ہو تو وہ آپ کو بتائیں گے کہ ان کے کتب خانے میں نوراللغات کی چاروں جلدوں کو وہی شرف حاصل تھاجو ملینکن کی امریکن انگلش کی پانچ جلدوں کو۔ اور یہ کہ انہیں دیوان حافظ اتنا ہی عزیز تھا جتنی شیکسپیئر کی تصانیف۔ وہ پشتو، پنجابی اور اردو میں بھی اتنے ہی خوش گفتار تھے جتنے انگریزی میں۔ ان تمام زبانوں پر ان کا علم یکساں وسیع تھا۔

(ترجمہ)

* * *