*/?>
*/?>

Patras (پطرس)

پطرس

(حکیم یوسف حسن)

   جینئس بننے یاکہلانے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی کی پشت پر بہت سی تصنیفات لدی ہوں یا اس کے سینے پر بہت سی تعلیمی ڈگریوں کے طلائی تمغے جھلملا رہے ہوں۔ جینئس پیدائشی ہوتا ہے، اکتسابی نہیں ہوتا اس کی غیر معمولی ذہانت ہی اسے اس رتبہ پر پہنچا دیتی ہے۔اس ربع صدی کے نامور اور ذہین ادباءپر ایک نظر ڈالی جائے تو زیادہ سے زیادہ ایک درجن ناموں پر نگاہ رکتی ہے اور اس نظریہ کے ثبوت میں کہ غیرمعمولی ذہانت کا ڈگریوں سے کوئی تعلق نہیں ہمیں تاثیر وپطرس کو پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔تاثیر میرا دوست، میرا ساتھ اور نیرنگ خیال کا مدیر معاون تھا اس لحاظ سے تاثیر مرحوم کے مجھ پر بہت سے حقوق ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب تاثیر کیمبرج میں داخلے کے لئے پہنچے تو انہوں نے بی اے میں داخلہ لیا۔ اور پطرس نے بھی بی اے ہی میں داخلہ لیا۔ لیکن تاثیر نے انگریزی ادب کے متعلق اتنا کچھ پڑھا ہوا تھا کہ اگر میں کہہ دوں کہ وہ کئی لائبریریوں کو نگل چکا تھا تو اسے مبالغہ نہ سمجھا جائے، کیمبرج کے پروفیسر سے تبادلہ خیال ہوتا رہتا تھا۔ وہ تاثیر کی عظیم واقفیت سے بےحد متاثر ہوئے اور انہوں نے اسے براہِ راست ایم اے میں داخلے کی اجازت دے دی او رپھر ایم اے میں اس کی قابلیت کے جوہر جو کھلے تو کیمبرج کے مروجہ دستور کے علی الرغم انہیں پی ایچ ڈی میں بیٹھنے کی اجازت کیمبرج کونسل کے ایک اسپیشل اجلاس میں دے دی گئی۔ تاثیر کو پی ایچ ڈی کے لئے قرون وسطیٰ کی انگریزی نظم میں تصوف کے رجحانات پر تحقیقی مقالہ تیار کرنا تھا۔ عنوان ہی سے اس کی سنگ لاخی ظاہر ہے مگر تاثیر نے کیمبرج سے پی ایچ ڈی نمایاں حیثیت سے حاصل کر لی۔ شاید تاثیر پہلے ہندوستانی تھے جنہیں یہ فضیلت حاصل ہوئی تھی۔ تاثیر مرحوم نے اس واقعہ کی تفصیل اپنے ایک خط میں دی ہے جو نیرنگ خیال میں شائع ہوچکا ہے۔
   پطرس جب بی اے (کیمبرج) بن کر آئے تو ان سے ملاقات ہوئی، تاثیر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بےساختہ کہا۔ حکیم صاحب تاثیر وہاں پڑھنے تھوڑا گیا ہے وہ تو پروفیسری کررہا ہے۔تاثیر اور پطرس کی کیمبرج کی ڈگریوں میں عظیم تفاوت ہے۔ تاثیر کا انگریزی ادب پر عبور محیرالقول ہے لیکن جہاں تک فطری ذہانت کا تعلق ہے پطرس کا مقام بہت آگے ہے۔ تاثیر اور پطرس کی انگریزی اور اردو کا بغور مطالعہ کیا جائے تو پطرس میں جو رنگینی، لطافت اور لچک پائی جاتی ہے وہ تاثیر میں موجود نہیں۔
   تاثیرنے بھی مزاحیہ رنگ میں چند مضامین نیرنگ خیال میں لکھے تھے جو ادب میں اچھا مقام رکھتے ہیں لیکن ہم انہیں پطرس کے مزاحیہ مضامین کے ساتھ نہیں رکھ سکتے۔پطرس کا ادبی کارنامہ صرف ”پطرس کے مضامین“ ہیں اس ننھی سی کتاب کے متعلق کیا کہیں، شیخ سعدی نے فرمایا تھا کہ:

ہر چہ بہ قامت کہتر یہ قیمت بہتر

اس کے مصداق یہ چند مضامین ہی پطرس کی عالمگیر شہرت اور ناموری کا باعث بن گئے۔ اگر میں یہ کہہ دوں کہ ہندو پاکستان کی تمام مزاحیہ کتابوں کو ترازو کے ایک پلڑے میں ڈالا جائے اور پطرس کے مضامین دوسرے پلڑے میں رکھے جائیں تو پطرس کے مضامین بھاری رہیں گے۔پطرس کے مضامین کے بعض حصے نیرنگ خیال میں بھی شائع ہوچکے ہیں اور پطرس کی یہ مزاحیہ تصنیف تو قریباً ہر پڑھے لکھے آدمی کی نظر سے گذری ہوگی لیکن پطرس نے ان مزاحیہ مضامین کے علاوہ اور بھی بہت کچھ لکھا ہے جس کا مجموعہ نقوش کے اس خاص نمبر میں آپ کے ملاحظہ سے گزرے گا اور جس سے معلوم ہوگا کہ پطرس نے ادب اور زندگی کے ہر شعبہ میں بہت سی کارآمد باتیں لکھی ہیں۔
   پطرس کی شہرت ان مضامین سے بھی ہوئی تھی جو نیاز مندانِ لاہور کی طرف سے نیرنگ خیال اور کاروان میں شائع ہوئے تھے۔ ان مضامین میں طنز ومزاح کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ نیاز مندانِ لاہور کون تھے؟ یہ سوال تو لوگوں کو پریشان کرتا رہا۔ نیاز مندانِ لاہور سے مراد تین اصحاب تھے: پطرس، تاثیر اور سالک۔ جو مضمون بھی شائع ہوتا اس پر تینوں متفق ہوتے تھے، اصل میں ہوتا یوں تھا کہ دفتر نیرنگ خیال میں تبادلہ کے رسائل اور ریویو کے لئے کتابیں موصول ہوتیں تھیں۔ جب ان میں کوئی چیز ایسی آجاتی جس پر بحیثیت پنجابی ہونے کے ہمیں توجہ کی ضرورت ہوتی تو میں وہ مواد تاثیر کے سپر د کر دیتا کہ اس کتاب یا اس رسالے کے فلاں مضمون پر نشتر زنی کی ضرورت ہے۔ تاثیر صاحب وہ مواد اپنے خیالات اور تحقیق کے ساتھ پطرس صاحب تک پہنچا دیتے۔ اور پطرس صاحب اس پر ایک مضمون قلم بند فرماتے جس میں آخری ٹچ عبدالحمید صاحب سالک کی ہوتی تھی اور پھر وہ مضمون نیرنگ خیال میں شائع ہوجاتا۔ ان مضامین کی ان دنوں یو پی اور اہل زبان میں بڑی دھوم تھی ان میں مزاح سے زیادہ طنز اور تنقید ہے۔پطرس صاحب زندہ مزاج تھے۔ احباب کے ساتھ جس مجلس میں بھی وہ بیٹھتے، ان کے درخشاں اور شگفتہ چہرے سے مزاح کی فضا ترقی پکڑتی تھی، ان کے منہ سے مزاح بھرے فقرے اور الفاظ اس طرح مسلسل ادا ہوتے تھے کہ تمام مجلس لوٹن کبوتر بنی رہتی تھی۔ اس مزاح میں عامیانہ اور گھٹیا انداز میں کوئی بات نہ ہوتی تھی۔ جی چاہتا تھا کہ گھنٹوں بیٹھے پطرس کی باتیں سنتے رہیں۔
   جب پطرس صاحب آل انڈیا ریڈیو میں ڈائریکٹر جنرل تھے تو ریڈیو کی بعض پالیسیوں کے متعلق میں نے نیرنگ خیال میں سختی سے نکتہ چینی کی۔ یہ سلسلہ کوئی دو مہینے چلا ہوگا کہ پطرس کا ایک خط مجھے ملا جس میں اس قسم کے الفاظ تھے: ”سب میرے خلاف سب کچھ لکھیں تو میں برداشت کر لوں گا لیکن میرے خلاف نیرنگ خیال میں کچھ لکھا جائے تو میں اسے برداشت نہ کرسکوں گا“۔ خط کے پہنچتے ہی میں نے یہ سلسلہ نیرنگ خیال میں فوراً روک دیا۔
   ایک دفعہ ہمارے دوستوں نے نیرنگِ خیال کو نیچا دکھانے کے لئے مخزن کا سہارا لیا ”تاثیر مع اپنے عملہ“ کے مخزن کے دفتر میں جا پہنچے۔ صبح سے شام تک پورا عملہ مخزن کو بڑھانے اور مقبول بنانے میں مصروف نظر آتا تھا۔ پطرس، سالک اور امتیاز کو بھی اپنے ڈھب پر لانے کی انہوں نے بہت کوشش کی اور ان کے بعض مضامین جو نیرنگ خیال کو ملتے تھے۔ انہوں نے راستے ہی سے اچک لئے۔ اس معرکہ میں پطرس صاحب نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ”چوہے بلی کے گلے میں گھنٹی تو باندھیں گے لیکن اس کی میاوٴں کا کیا علاج کریں گے۔ تمہارے طائفہ کے پاس سب کچھ ہے لیکن حکیم صاحب کی سوجھ بوجھ کہاں سے لاؤ گے؟“ چنانچہ اس جماعت کی یہ تمام کوششیں پوری طرح ناکام ہوگئی۔
   پطرس نیرنگِ خیال کے دورِ اول کے لکھنے والوں میں سب سے نمایاں شخصیت تھے۔ بلکہ مجموعی طور پر انہوں نے دوسروں سے کچھ زیادہ ہی لکھا ہے۔ ان تحریروں میں ڈراما، فلم، افسانہ، ادب لطیف، تنقید، طنز ومزاح سب ہی کچھ شامل ہے۔

* * *